انوارالعلوم (جلد 4) — Page 242
لوم جلد ۴ ۲۲ ملاح اعمال کی تلقین ہے کہ اب نئی عمارت بنے گی پس اس عمارت کی تیاری کے لئے محنت اور کوشش کی ضرورت ہے۔باقی جس قدر لوگ ہیں اسلام کی ترقی کے ساتھ مسلمانوں کی ترقی وابستہ ہے انہیں اس کی پرواہ ہی نہیں وہ دن رات دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور جنہیں کچھ مذہب کا خیال ہے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ اپنے ایجاد کردہ ذرائع سے کامیاب ہو جائیں گے حالانکہ کوئی مذہب اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ خدا کے ساتھ صلح نہ ہو اور خدا خود اس کا معاون و مددگار نہ ہو جائے تو اسلام کی ترقی کے ساتھ مسلمانوں کی ترقی وابستہ ہے جب تک اسلام ترقی نہیں کرے گا مسلمان بھی ترقی نہیں کر سکتے اور کوئی ذریعہ ان کی کامیابی کا نہیں ہے۔لیکن عام لوگ اس سے غافل پڑے ہوئے ہیں صرف ایک ہی جماعت ہے جس کی توجہ اس طرف ہے اور وہ احمدی جماعت ہی ہے۔اب دیکھئے کیسا نازک وقت ہے اسلام کی عمارت تیار ہونے کے لئے ایک طرف تو کروڑوں مزدوروں کی ضرورت ہے لیکن دوسری طرف مزدوروں نے سٹرائک کر رکھی ہے اور مسلمان کہلانے والوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم اس میں حصہ نہیں لیں گے۔اس کی لئے صرف چند لاکھ ایسے آدمی ہیں جو بظاہر اتنی بڑی عمارت کے ایک گوشہ کے لئے بھی کافی نہیں ہیں۔ایسی حالت میں جس قدر محنت اور کوشش کی ہمیں ضرورت ہے وہ صاف ظاہر ہے۔لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ ایسے وقت میں اور اتنے کم یہ آرام کرنے کا وقت نہیں مزدور ہونے کی صورت میں ان میں سے بھی کئی پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ ستالیں اور آرام کرلیں۔ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ یہ غفلت اور سستی کا وقت نہیں اور نہ ہی آرام کرنے کا موقع ہے بلکہ کام کا وقت ہے اور آپ لوگوں نے اس کام کے کرنے کے لئے کئی بار وعدے کئے ہیں میں ان وعدوں کے پورا کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔پس جن میں غفلت اور سستی پائی جاتی ہے وہ اسے ترک کریں۔کامیابی اور کامرانی تمہارے دروازے پر کھڑی ہے اور یہ کامیابی یا تو رسول کریم نانی کے وقت حاصل ہوئی ہے یا اب ہوگی۔رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! ہم اچھے ہیں یا سیح کے صحابہ؟ آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا۔صحابہ کو جو انعام ملے ان کے متعلق مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہر مسلمان خوب اچھی طرح جانتا ہے۔پس انعام جو انہیں ملے وہی آپ