انوارالعلوم (جلد 4) — Page 241
انوار العلوم جلدم الم اصلاح اعمال کی تلقین اگر آج ہماری ساری جماعت اپنے قلوب کو قلب صاف ہو جانے کے بعد کیا ہو گا صاف کرے اور ایسا بنالے کہ کوئی ٹھوکر کوئی تکلیف کوئی مشکل اور کوئی مصیبت اسے صراط مستقیم سے ہٹا نہ سکے اور دشمن تو الگ اگر اپنوں سے بھی کوئی رنج اور تکلیف پہنچے تو بھی عقائد سے متزلزل نہ ہو کیونکہ اس نے کسی کے لئے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا بلکہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے مانا ہے۔پس اگر ہماری جماعت کے تمام افراد کو یہ بات حاصل ہو جائے تو موجودہ صورت سے کئی گنا بڑھ کر ہماری ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی اور جس طرح سیلاب کے سامنے بڑی بڑی عمارتیں اور دیواریں گرتی اور مٹتی جاتی ہیں اسی طرح اس روحانیت کے دریا کے سامنے کفر کی عمارتیں دھڑا دھڑ گرتی چلی جائیں گی۔پھر قلب کی صفائی کے ساتھ ظاہری صفائی کی بھی ضرورت ہے اس لئے اس سے بھی غافل نہ رہنا چاہئے اور اپنے فرائض کی اہمیت اور موقع کی نزاکت کو خوب طرح محسوس کرنا چاہیئے۔موجودہ نازک حالت اس وقت حالت یہ ہے کہ پہلی بوسیدہ عمارتوں کو مٹایا جارہا ہے ان کی جگہ نئی بنیادیں رکھی جارہی ہیں اور ایسا وقت بہت نازک اور تکلیف دہ ہوتا ہے جبکہ پرانی عمارت گرا کر نئی بنائی جارہی ہوتی ہے کیونکہ خواہ مکان پرانا اور بوسیدہ ہو تو بھی اس میں گزارہ کرنے والے کرہی لیتے ہیں بارش میں اگر ایک جگہ سے ٹکے تو ی دوسری جگہ ہو بیٹھتے ہیں۔گرمی میں دھوپ سے اور سردی میں ہوا سے بچتے ہیں لیکن جب مکان بالکل گر جائے تو پھر کچھ بھی سہارا نہیں رہتا۔پس آج اسلام کی وہ عمارت جو نا اہلوں کی وجہ سے بوسیدہ ہو گئی تھی گرادی گئی ہے اور اب نئی عمارت بنائی جائے گی۔بوسیدہ عمارت کے گرنے سے ہمیں خوشی ہے کہ نئی بنے گی لیکن جس طرح نیا مکان بنانے کے لئے بہت زیادہ فکر اور کوشش کرنی پڑتی ہے ، اس سے زیادہ کوشش کی ہمیں ضرورت ہے۔اس وقت زیادہ سے زیادہ دو تین مسلمان کہلانے والوں کی حکومتیں رہ گئی تھیں اور وہی اسلام کی عمارت سمجھی جاتی تھیں لیکن چونکہ وہ بوسیدہ ہو گئیں اس لئے خدا انہیں گرا رہا ہے اور اس طرح مسلمانوں کو بیدار اور ان ہوشیار کیا گیا ہے۔اب نئی عمارت بنے گی مگر تلوار کے ذریعہ نہیں، روحانی ذرائع سے اور اس کے لئے تیاری کرنا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔اگر چہ یہ دن اسلام کے لئے بہت نازک اور خطرناک دن ہیں مگر جو خدا تعالیٰ پر یقین اور بھروسہ رکھتے ہیں ان کے لئے خوشی کا بھی موقع