انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 240

۲۴۰ اصلاح اعمال کی تلقین ہے کہ اس پر ایک پردہ پڑا ہوا تھا جو ذرا سی ٹھوکر سے پھٹ گیا اور اندر سے اس کے گندے اور نا پاک نفس کی بدبو آنے لگ گئی۔تو اس طرح ٹھوکریں لگنے کی وجہ دراصل یہی ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کے قلب صاف نہیں ہوتے۔اگر قلب صاف ہو تو انہیں اپنے عقائد پر ایسا یقین اور ثبات ہو کہ جس صفائی قلب کا نتیجہ سے کوئی چیز انہیں متزلزل نہ کر سکے۔دیکھو اگر ایک شخص کو کامل ایمان ہو کہ رسول کریم و خدا کے بچے رسول ہیں اور اس کے قلب میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ داخل ہو تو اسے اگر ساری دنیا مل کر بھی اس عقیدہ سے ہٹانا چاہے تو وہ نہیں ہے گا وہ جان تو دے دے گا مگر ایمان نہیں دے گا۔وہ اپنے بیوی بچوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرانا منظور کرلے گا لیکن یہ نہیں کہے گا کہ آپ خدا کے رسول نہ تھے۔اسی طرح جس شخص کے قلب میں یہ بات داخل ہو کہ حضرت مسیح موعود خدا کے نبی ہیں اسے خواہ کتنی ہی مشکلات پیش آئیں ، کتنی ہی تکالیف کا سامنا ہو وہ آپ کے نبی ہونے سے کبھی انکار نہیں کرے گا۔لیکن جس کے دل میں یہ بات داخل نہ ہوگی وہ خواہ زبانی اس کا کتنا ہی اقرار کرتا رہے، معمولی سی ٹھوکر انکار کر دے گا۔پس سب سے ضروری بات یہی ہے کہ قلب کو صاف کیا جائے اور اسے ہر قسم کی آلائشوں اور پلیدیوں سے پاک رکھا جائے۔آپ لوگوں کو اس طرف خاص توجہ کرنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ظاہری اعمال سے کام نہیں چلتا۔اس وقت تک نمازیں نمازیں نہیں کہلا سکتیں۔روزہ روزہ نہیں کہا جاسکتا۔حج حج نہیں ہو سکتا۔زکوۃ زکوۃ نہیں کہی جاسکتی جب تک قلب صاف نہ ہو اور قلب میں پاکیزگی پیدا نہ ہو جائے اور جب قلب صاف ہو جائے تو پھر سب باتیں خود بخود صاف ہو جاتی ہیں۔سے قلب کی صفائی کے کیا ذرائع ہیں۔یہ ایک لمبا مضمون ہے اور قلب کی صفائی کے طریق اس وقت مجھے کچھ تکلیف ہے زیادہ بول نہیں سکتا اس لئے میں صرف اتنا بتاتا ہوں کہ قلب کی صفائی کے طریق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں موجود ہیں۔میں اس وقت آپ لوگوں کو جگا رہا ہوں اور ایک اہم بات کی طرف متوجہ کر رہا ہوں۔آگے اس کا حاصل کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا آپ لوگوں کا کام ہے پس میں پھر کہتا ہوں کہ اپنے اپنے قلب کی صفائی کرو۔