انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 156

انوار العلوم جلد " ۱۵۶ حقیقته لئے اس طرح کلام کرتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ حیوانوں کو بھی خوابمیں آتی ہیں۔وہ تو شریعت کے پابند نہیں ہیں۔یہ تو میں نے بھی دیکھا ہے کہ کتا سوتے سوتے اس طرح بھونکتا ہے کہ کچھ دیکھ رہا ہے۔یا اس طرح منہ ہلاتا ہے کہ کچھ کھا رہا ہے۔وہ لوگ کہتے ہیں کہ حیوانوں کو خواب دیکھنے کا تجربہ اس طرح کر لو کہ ایک شکاری کتے کو شکار کے لئے لے جاؤ جب وہ خوب تھک کر چور ہو جائے تو اسے ملا دو اور اس کے پاس بیٹھ جاؤ۔اس وقت وہ ایسی ہی حرکتیں کرے گا جیسی کہ شکار کے وقت کرتا تھا۔اس کی یہی وجہ ہے کہ اسے وہ نظارے خواب میں دکھائی دے رہے ہیں۔(۳) تیسری دلیل وہ اپنی تائید میں یہ دیتے ہیں کہ پیدائشی اندھے یا وہ جو چار پانچ سال کی عمر 1 میں اندھے ہو جائیں انہیں کبھی خواب میں نور دکھائی نہیں دیتا۔اگر خواب کا تعلق خدا سے ہوتا تو چاہئے تھا کہ وہ بھی کبھی نور دیکھ لیتے مگر ایسا نہیں ہو تا۔ہاں وہ جو پانچ اور سات سال کی درمیانی عمر میں اندھے ہوتے ہیں ان کی خوابوں کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اکثر کو خواب میں نور نظر آجاتا ہے اور بعض کو نہیں آتا۔اور جو سات سال کے بعد اندھے ہوتے ہیں ان میں سے تمام کو نظر آجاتا ہے۔سوائے ان کے جن پر لمبا عرصہ گزر چکا ہوتا ہے۔اگر خدا تعالٰی کی طرف سے خواب دکھائی جاتی ہے تو اندھے کو کیوں نظر نہیں آتا۔اس کو نظر نہ آنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ خواب مادی اسباب کا نتیجہ ہے۔چونکہ اندھے کے اندر دیکھنے کی طاقت موجود نہیں ہے اس لئے اس کی قوت متخیلہ نور کو پیدا نہیں کر سکتی لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے خواب ہوتی تو وہ نور پیدا کر سکتا تھا۔(۴) خواب کی وہ کیفیات جو پہلے بیان کی گئی ہیں یعنی خاص خاص جوشوں کے ماتحت خاص خوابوں کا آنا۔روزانہ دیکھتے ہوئے نظاروں کا سامنے آنا وغیرہ۔یہ بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خوابیں در حقیقت مادی اسباب کا نتیجہ ہیں نہ کہ اپنے اندر کوئی خاص معنی رکھتی ہیں۔(۵) پانچویں دلیل وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ہمیں ایسے ظاہری اسباب ملتے ہیں جن سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ بناوٹی اور مصنوعی بات ہے۔اور مشاہدہ خواب کے خدا تعالی کی طرف سے نہ ہونے پر ایک زبردست دلیل ہے۔اور وہ کہتے ہیں کہ ہم خوابیں دکھا کر ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ انسانی طاقت کی بات ہے۔ہم یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ اگر انسان کی فلاں حالت ہوگی تو فلاں قسم کی خواہیں اسے آئیں گی۔اس امر کا تجربہ کر کے دیکھ لو جس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ