انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 127

انوار العلوم جلد ۴ اسلام علم حاصل کرو کریں۔ہرگز نہیں اور کیا وہ لڑکوں کے صرف یہ کہہ دینے اور سبق نہ یاد کرنے سے راضی و سکتا ہے کہ ہمارا استاد بڑا قابل اور لائق ہے۔قطعا نہیں۔پس آپ لوگوں کا بھی صرف یہ کہہ دینا کہ حضرت مرزا صاحب روحانیت کے بڑے اعلیٰ درجہ کے معلم تھے، رسول کریم کے بے نظیر استاد تھے اس وقت تک کسی کام کا نہیں اور انہیں خوش نہیں کر سکتا جب تک کہ جو سبق وہ تمہیں دیتے ہیں اسے اچھی طرح یاد نہ کرو۔کیا تم انہیں نَعُوذُ بِاللهِ) دنیا کے مدرسوں سے بھی کم درجہ کے سمجھتے ہو کہ صرف ان کی تعریف کر کے خوش کرنا چاہتے ہو اور اپنا سبق یاد کر کے نہیں سناتے۔جب دنیا کے مدرس جو نوکر ہو کر لکھاتے پڑھاتے ہیں وہ طالب علموں کی صرف تعریف کردینے اور سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے خوش نہیں ہو سکتے تو پھر تمہیں کس طرح خیال ہے کہ محمد الله اور حضرت مسیح موعود محض تمہاری زبانی تعریفوں سے خوش ہو جائیں گے۔وہ تو اسی وقت خوش ہوں گے جبکہ تم ان کے پڑھائے ہوئے سبقوں کو اچھی طرح یاد کرو گے اور جب تک انہیں یاد نہ کرو گے اس وقت تک ان برکات کو حاصل نہ کر سکو گے جو ان کے ذریعہ ملتی ہیں۔کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کہے کہ تیرنا بہت اچھا ہنر ہے مگر تیرنا نہ جانتا ہو اور پھر دریا کے کنارے کھڑا ہو کر کے کہ اے دریا میں اس بات کا قائل ہوں کہ تیرنا بہت اچھا ہے اور دریا میں کود پڑے کیا وہ ڈوبے گا نہیں۔ضرور ڈوبے گا اسی طرح صرف زبانی اقرار کرتے ہوئے کہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم بہت اعلیٰ ہے اور حضرت مرزا صاحب کے فرمودہ احکام سب سچ ہیں در آنحالیکہ اس سمندر میں تیرنے سے محض نابلد ہو۔اگر کوئی ایسا شخص اس سمندر میں اپنے آپ کو ڈالتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ہلاک کرتا ہے۔اس سمندر کی تہہ سے حکمت اور معرفت کے موتی اس وقت ہاتھ آئیں گے جب آپ لوگ تیرنا سیکھیں گے اور اس کے تیراک بنیں گے۔بعض اوقات پانی میں تیرنے والے بھی ڈوب جایا کرتے ہیں لیکن اس سمندر کا تیراک ایسا ہوتا ہے جو کبھی نہیں ڈوبتا پس اس میں تیرنا سیکھو اور اس کے بعد یقین رکھو کہ تمہیں گوہر مقصود حاصل ہو جائے گا۔دیکھو جب ہم پیاسے ہیں اور خدا کی معرفت کی ضرورت ہے اور اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ اس کے بغیر گزارہ نہیں تو پھر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ خدا کی معرفت کا پانی موجود ہوتے ہوئے ہم اس کو نہ پئیں۔اگر ایک شخص کو سخت پیاس ہو اور اس کے خص