انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 126

انوار العلوم جلد ۴ علم حاصل کرو اس بارے میں ہرگز کو تاہی نہیں کروں گا۔اگر اس پر اس علم کے سیکھتے سیکھتے موت آگئی تو وہ خدا کے حضور سرخرو ہو جائے گا۔حدیث میں آتا ہے ایک گناہگار تھا وہ اپنے زمانہ کے مولویوں کے پاس گیا اور جاکر کہا کہ کیا میں اب گناہوں سے توبہ کر کے نجات پاسکتا ہوں۔انہوں نے کہا نہیں۔ان سے ناامید ہونے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ایک بڑا بزرگ ہے وہ اس کے لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا بتاتا ہے۔یہ معلوم کر کے وہ اس کی طرف چل پڑا لیکن ابھی راستہ میں ہی تھا کہ اس کی جان نکل گئی، اس کے مرنے پر دوزخ اور بہشت کے فرشتوں میں بحث ہوئی۔دوزخ کے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا حق ہے ہمیں دیا جائے تا ہم اسے دوزخ میں ڈالیں کیونکہ گناہگاری کی حالت میں مرا ہے اور بہشت کے فرشتے کہتے تھے کہ ہمیں دیا جائے تا ہم اسے بہشت میں داخل کریں کیونکہ یہ توبہ کی خاطر جارہا تھا کہ مرگیا۔آخر انہوں نے یہ معاملہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کیا خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں یہ مرا ہے وہاں سے دونوں طرفوں کو ناپو۔یعنی جہاں سے وہ آیا تھا اسے بھی اور جدھر جاتا تھا اسے بھی اور جس طرف کا فاصلہ تھوڑا ہو اس کے مطابق اس سے سلوک کرو۔پھر جس طرف وہ جا رہا تھا اس کو خدا تعالیٰ نے تنگ کردیا اور اس طرح وہ طرف کم ہو گئی اور جدھر سے وہ آرہا تھا وہ بڑھ گئی اس پر فیصلہ ہوا کہ بہشت میں بھیجا جائے۔یہ ایک مثال ہے جسے خدا تعالیٰ نے رسول کریم کو بطور کشف دکھلایا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ جس حالت پر انسان مرتا ہے اسی کے مطابق انسان سے معاملہ کیا جاتا ہے خواہ وہ حالت اپنے کمال کو نہ پہنچی ہو۔تو آپ لوگوں میں سے کوئی یہ مت سمجھے کہ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں کیا کر سکتا ہوں۔وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور اگر اور کچھ نہیں کر سکتا تو اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش تو کر سکتا۔اور خدا تعالیٰ کے حضور کہہ سکتا ہے کہ جس دن تیرے ایک بندہ نے مجھے اس فرض کی طرف متوجہ کیا تھا اسی دن سے میں نے اس کے پورا کرنے کی کوشش شروع کردی تھی آگے موت میرے اختیار میں نہ تھی کہ نہ مرتا اور اس فرض کو انجام تک پہنچاتا یہ کہہ کر وہ خدا تعالی کی بخشش اور انعام کا مستحق ہو سکتا ہے۔پس اس کیلئے آج ہی سے کوشش شروع کردو۔یہ بہت افسوس اور رنج کی بات ہوگی کہ اب بھی ہماری جماعت کا کوئی فرد اس میں سستی اور کوتاہی کرے جس طرح بھی ہو سکے علم کے سیکھنے کی کوشش کرو۔کیا کوئی مدرس صرف اس بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ اس کی جماعت میں لڑکے تو بہت سے داخل ہو جائیں مگر وہ اپنا سبق یاد نہ