انوارالعلوم (جلد 4) — Page xv
العلوم جلدم حقیقت الامر حضور کی یہ تصنیف مولوی محمد علی صاحب کی ایک مطبوعہ چٹھی کے جواب میں ہے تاہم اس میں بیان کردہ امور کی اہمیت و ضرورت مستقل نوعیت کی ہے مثلاً آپ نے اپنے عقائد کی پختگی کے متعلق فرمایا : ایسے وقت مجھے پر بھی اس بیماری میں ضرور آئے ہیں کہ جب مجھے یقین کامل ہو گیا کہ میں چند منٹ سے زیادہ اس دنیا میں نہیں رہ سکتا۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان عقائد پر میں نے اس وقت کامل تسلی پائی۔۔۔اور میرا دل اس وقت مطمئن تھا کہ میں نے جو کچھ کیا حق اور انصاف کو مد نظر رکھ کر کیا ہے اور اس کی بدولت امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میری سنتیوں اور غفلتوں سے عفو فرمائے گا اور اپنے فضل کے نیچے جگہ دے گا"۔مخالفین کا لٹریچر پڑھنے کے متعلق حضور نے یہ وضاحت فرمائی کہ میں نے کبھی کسی کو ایسا لٹریچر پڑھنے سے منع نہیں کیا تاہم ایسا لٹریچر پڑھنا اسی کے لئے مناسب ہو سکتا ہے جو اپنے مذہب سے کما حقہ واقف ہو اور تقابلی موازنہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اس بات کے جواب میں کہ اگر کسی مخالف کے عقائد و لٹریچر کا مطالعہ نہ کیا ہو تو کس طرح پتہ چل سکتا ہے کہ ہمارے عقائد درست ہیں۔حضور فرماتے ہیں: " کچے عقائد اپنے اندر بھی ایسی خوبیاں رکھتے ہیں کہ وہ اپنی صداقت پر آپ گواہ ہوتے ہیں اور ان کی صداقت کا انسان معائنہ کر سکتا ہے۔مثلاً اسلام اپنے اندر ایسی خوبیاں رکھتا ہے کہ بغیر اس کے کہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کیا جاوے اس کا ایک کامل پیرو اس کی صداقت پر تسلی پا سکتا ہے اور اس کے دلائل دے سکتا ہے"۔اس اعتراض کے جواب میں کہ حضرت مسیح موعود بارہ سال تک اپنے دعوی کو سمجھ ہی نہ سکے حضور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود پر کبھی بھی کوئی وقت نہیں آیا کہ آپ دعوئی کو سمجھ نہ سکے ہوں آپ شروع سے آخر تک اس مقام کو سمجھتے رہے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا ہے ہاں صرف اس دعوئی کے نام میں آپ احتیاط کرتے رہے ہیں یعنی آیا