انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiv of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page xiv

انوار العلوم جلدم تعارف کتب مختلف جو بعد میں کتابی شکل میں حقیقة الرؤیا کے نام سے شائع ہوا۔اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اس سلسلہ کی اہمیت اس سے ظاہر ہے کہ تمام مذاہب اور ان کی کتب کی بناء الهام ، کشف اور رویا پر ہی ہے اگر یہ چیزیں صحیح نہیں تو تمام مذاہب ہی جھوٹے ہیں۔الہام کشف اور رویا کے عام معنی یہ ہیں کہ کسی بیرونی ہستی کی طرف سے ان حواس ظاہری کے علاوہ باطنی حواس سے کسی چیز کا دیکھنا یا سننا یا زبان پر جاری ہونا۔الہام و رؤیا کے چار قسموں کے مخالفین اور ان کے دعاوی کا ذکر کرنے کے بعد عقلی و نقلی دلائل سے ان کے شکوک و شبہات کا نہایت احسن رنگ میں ازالہ فرمایا۔حضور نے اس گرانقدر علمی مضمون میں بہت سے ضمنی عنوانات جیسے رویا دیکھنا کسی بات نہیں، شیطانی اور رحمانی خواب میں فرق ، رویا کی قسمیں، جھوٹی وحی کی پہچان، رحمانی خوابوں کی اقسام اور ان کی پہچان ، الہام کی صداقت معلوم کرنے کے طریق ماموروں کے الہام کی علامات انبیاء کے الہامات میں متشابہات، انبیاء کو اجتہادی غلطی کیوں لگتی ہے وغیرہ پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث فرمائی۔الہام اور رویا کی خواہش نہ کرنے کے متعلق ایک نکتہ معرفت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: "حضرت مسیح موعود نے بعض جگہ لکھا ہے کہ رویا اور الہام پانے کی خواہش نہ کرو۔۔۔خطرہ ہے کہ ایسا شخص خوابوں اور الہاموں پر فخر کر کے عجب کے مرض میں گرفتار ہو جاوے اور اس طرح بجائے ترقی کے الہام اسے اَسْفَلُ السَّافِلِينَ میں گرانے کا موجب ہو جائیں۔پس چونکہ الہامات و رؤیا کے ساتھ ایک خطرہ بھی لگا ہوا ہے اس لیے ان کی خواہش کرنے سے روکا ہے تا ایسا نہ ہو کہ انسان اپنے ہاتھوں خود ہلاکت کے گڑھے میں گیر جائے۔مامور کے الہامات کو پر کھنے کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا: اگر کوئی عقل و فکر سے کام لے ، ضد اور دشمنی کو ترک کردے تو ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کی صداقت روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جاتی ہے لیکن بہت لوگ ہیں جو ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔۔۔یہ باتیں میں نے مختصر طور پر آپ لوگوں کو بتادی ہیں۔۔۔تاکہ ان لوگوں کے اعتراضات کے جواب دے سکو اور ان باتوں کے نہ جاننے کی وجہ سے جو ٹھوکریں لگ سکتی ہیں ان سے بچ سکو۔سکو"۔