انوارالعلوم (جلد 4) — Page 106
انوار العلوم جلد م 1۔4 علم حاصل کرو کی کیا وجہ ہے۔مختلف طبائع ہیں جس طرح انہیں آگے بڑھنے والوں پر اعتراض ہے اسی طرح آگے بڑھنے والے بھی ان پر معترض ہیں کہ یہ لوگ کیوں ہماری طرح آگے نہیں بڑھتے کیونکہ ان کے نزدیک یہ بھی اخلاص دکھانے کا ایک طریق ہے۔بات یہ ہے کہ دونوں کے نزدیک الگ الگ اخلاص کا معیار ہے۔ایک تو کہتے ہیں کہ خواہ پس جائیں آگے ہی جاتا ہے۔مفتی محمد صادق صاحب سناتے تھے کہ حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری سال جو جلسہ ہوا اس میں ایک شخص مجمع میں سے پیچھے کھڑا ہوا دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ دیکھو نبیوں کا زمانہ روز روز نہیں آتا تو ایک دفعہ آگے جاکر حضرت مسیح موعود سے مصافحہ کر ہی آخواہ تیری ہڈی ہڈی کیوں نہ ٹوٹ جائے چنانچہ وہ مجمع میں گھس گیا اور مصافحہ کر آیا۔تو ایک اس طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں مگر دوسرے کہتے ہیں کہ مجمع میں لڑکتے جانا کہاں کا ادب ہے، اس طرح خواہ مخواہ تکلیف دی جاتی ہے۔یہ دونوں کے اخلاص کی باتیں ہیں اور دونوں پھل پائیں گے اس لئے کسی کو ایک دوسرے پر چڑنے کا کوئی حق نہیں ہے۔پھر بعض سختی اور تشدد سے میرے پاس سے دوسروں کو ہٹانا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ خدمت کر رہے ہیں انہیں چاہئے کہ رفق اور ملائمت کا سلوک کریں، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور ادب سے پیش ئیں تم سب ایک دوسرے کے بھائی ہو اور غیر احمدی جو آئے ہیں وہ ہمارے مہمان ہیں۔پس تم انسانیت اور مراتب کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ سلوک کرو نہ کہ سختی اور بے ادبی سے پیش آؤ۔مجھے حیرت ہوتی ہے جب ایک دوسرے سے بد تہذیبی اور سختی کر کے لوگ کہانی کرتے ہیں کہ ہم تو لنگوئیے یار ہیں ہمارا کیا ہے۔حالانکہ اگر وہ بچپن کے دوست ہیں تو انہیں چاہئے کہ ایک دوسرے کا اور بھی زیادہ ادب اور لحاظ کریں کیونکہ اگر دوست دوست کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا تو کیا دشمن کرے گا۔آپ لوگ ایک دوسرے کا ادب کریں، قادیان والے باہر سے آنے والوں کا ادب کریں ، کہ وہ ان کے مہمان ہیں اور بیرونی احباب قادیان والوں کا ادب کریں کہ ان کا اکثر حصہ ایسا ہے جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر محض دین کی خاطر یہاں آگیا ہے۔آپ لوگ میرے پاس یہاں آئے ہیں اور یہ لوگ میرے ملازم نہیں ہیں مگر رات کے دو دو بجے تک آپ لوگوں کی خاطر سردی میں کام کرتے رہتے ہیں۔اگر ان لوگوں میں اخلاص اور محبت نہ ہوتی تو انہیں کیا ضرورت تھی کہ اپنے گھروں میں آرام کرنے کی بجائے سردی میں آدھی آدھی رات تک