انوارالعلوم (جلد 4) — Page 65
دم جلد ۴ ۶۵ ربوبیت باری تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہے نہ گزرے تھے کہ دنیا پر آپ کی شہرت ہو گئی اور آج کئی لاکھ کی جماعت آپ کے نام پر جان دینے والی موجود ہے اور ہر ملک میں آپ کا نام پھیلا ہوا ہے اب امریکہ میں بھی ایک شخص نے آپ کو قبول کیا ہے۔انگلستان، چین، ماریشس اور الجزائر وغیرہ ممالک میں تو ہماری جماعتیں موجود ہیں۔یہ سب کچھ ایسی صورت میں ہوا کہ ساری دنیا آپ کی مخالفت کے لئے زور لگاتی رہی اور اس ایک پہلوان کے مقابلہ میں سارے پہلوان اٹھے۔مگر اس نے جیسا کہ پہلے سے ہی کی کہہ دیا تھا کہ میں سب کو گرالوں گا چنانچہ اس نے گر الیا اور کامیاب ہو گیا۔اب بتائیں کہ وہ کفر کے فتوے کہاں گئے اور فتوے لگانے والے کدھر گئے۔اس شہر کے لوگ بھی جانتے ہیں کہ جب آپ نے دعوی کیا تو آپ پر کس طرح فتوے لگائے گئے مگر وہ دیکھ لیں کہ آپ کا نام دنیا میں کس شان اور سرعت کے ساتھ پھیلا اور پھیل رہا ہے۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ وہی لوگ جنہیں اپنی آزادی کا بڑا گھمنڈ تھا اور دوسروں کو غلام سمجھتے تھے وہ مجھے لکھتے ہیں کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم آپ کے غلام ہیں۔حالانکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے غلاموں میں سے ایک غلام ہوں۔انگلستاں ایسا آزاد ملک کہ جہاں کے لوگوں نے پوپ کی ماتحتی کو گوارا نہ کیا اور ایسے آزاد کہ کسی کی پرواہ نہ کرنے والے۔وہاں سے بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم اس وقت تک سوتے نہیں جب تک کہ احمد پر درود نہ بھیج لیں۔کیا یہ حضرت مرزا صاحب کے بچے ہونے کا زبر دست ثبوت نہیں ہے۔اگر آپ کوئی ایسی بات پیش کرتے جو دنیا کی منظور نظر ہوتی تو لوگ کہہ سکتے تھے کہ اس کو قبول کرنے کے لئے پہلے سے ہی دنیا تیار تھی مگر آپ نے وہی باتیں پیش کیں جن کا دنیا انکار کر رہی تھی۔اس زمانہ میں یہ ماننے کے لئے کون تیار تھا کہ خدا اپنے بندوں کو الہام کرتا ہے لوگ تو اپنی الہامی کتابوں کو بھی چھوڑ رہے تھے اور الہام کا بالکل انکار کر رہے تھے مگر آپ نے قبل از وقت بتا دیا کہ لوگ مجھے قبول کریں گے اور دنیا پر میرا نام پھیل جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ خدا کے بتائے کے بغیر نہیں کہا جا سکتا تھا۔حضرت مرزا صاحب اسلام کی صداقت کا ثبوت حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ نے آکر بتادیا کہ خدا رب العالمین ہے اور جس طرح پہلے اپنے بندوں سے کلام کرتا تھا اسی طرح اب بھی کرتا ہے۔پھر آپ نے یہ بھی ثبوت دے دیا کہ اسلام ہی ایک سچا اور قابل قبول مذہب ہے۔اگر صاحب کوئی مستقل دعوی کرتے تو اس سے یہ نتیجہ نکل سکتا تھا کہ آپ خود کوئی تعلیم لائے ہیں