انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 53

انوار العلوم جلد ۴ ۵۳ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے دہریت بھی صفات الہیہ پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے اور اس کا علاج صفات الہیہ پر غور ہے دیگر بد اعتقادیاں اور باطل پرستیاں بھی صفات الہیہ پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہیں چنانچہ سورہ فاتحہ جو ام القرآن ہے اور اس میں تمام ان مضامین کو اختصاراً بیان کر دیا گیا ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہیں بنی نوع انسان کو اسی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ مذہب کے متعلق حق معلوم کرنے کے لئے اور اعمال کی درستی کے لئے صفات الہیہ پر غور ضروری ہے اور اس سورۃ کے ابتداء میں ان چار صفات کو بیان کیا گیا ہے جو خلاصہ ہیں تمام صفات کا اور جن پر غور کرنے سے انسان تمام قسم کی بد اعتقادیوں ! وں اور بد عملیوں سے بچ سکتا ہے۔ چنانچہ سب سے سے پہلے فرمایا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعُلَمِينَ (الفاتحہ : (۲) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ خدا کی ربوبیت کسی اللہ کے لئے؟ اس کے لئے جو سارے: جہانوں کا رب ہے۔ یہ ایک ایسا چھوٹا سا فقرہ ہے کہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن جتنا اس پر غور کیا جائے اتنا ہی خدا تعالی کی رحمت اور انعام کا پتہ لگتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے سب تعریف اللہ کے لئے ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ سارے جہانوں کا رب ۔ ارب ہے یعنی انسانوں کا ہی رب نہیں بلکہ حیوانوں کا بھی رب ہے۔ اور حیوانوں کا ہی نہیں نباتات اور جمادات کا بھی رب ہے اور ہر چیز جو دنیا میں پائی جاتی ہے اس کی وہ ربوبیت کر رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ شفقت کرنے والا ہے۔ مسلمانوں میں سے بہت لوگ خدا کی ربوبیت کا یقین گناہوں سے دور کر دیتا ہے ایسے ہیں جو یہ تو تو کہتے ہیں کہ خدا رب العلمین ہے۔ مگر غور نہیں کرتے کہ کس طرح ہے۔ اسی طرح اہل ہنوں میں سے ایسے لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کو رب العلمین مانتے ہیں مگر غور نہیں کرتے کہ کس طرح ہے۔ ایسے ہی عیسائیوں میں بھی لوگ ہیں۔ اگر یہ سب لوگ غور کریں تو ان کے دل خدا کی محبت اور پیار سے ایسے بھر جائیں کہ وہ کبھی گناہ اور برائی کا نام تک نہ لیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس سے محبت اور پیار ہوتا ہے اس کی بات انسان رو نہیں کر سکتا۔ پھر جب کوئی پیارا اور محبوب ایسی بات کے جو مفید اور فائدہ مند بھی ہو تو اس کو کس طرح رد کیا جاسکتا ہے۔ فرض کرلو بیٹا باپ سے کوئی ایسی چیز مانگتا ہے جس کے دینے میں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ فائدہ ہے۔ ایسی صورت میں تو اگر دشمن بھی کچھ مانگے تو دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چہ جائیکہ بیٹا مانگے اور باپ نہ دے۔ پس جس سے محبت اور الفت ہوتی ہے اس کی بات قبول