انوارالعلوم (جلد 4) — Page 53
العلوم جلد ۵۳ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے دہریت بھی صفات الہیہ پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے اور اس کا علاج صفات الہیہ پر غور ہے دیگر بد اعتقادیاں اور باطل پرستیاں بھی صفات الہیہ پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہیں چنانچہ سورہ فاتحہ جو ام القرآن ہے اور اس میں تمام ان مضامین کو اختصار آبیان کر دیا گیا ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہیں بنی نوع انسان کو اسی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ مذہب کے متعلق حق معلوم کرنے کے لئے اور اعمال کی درستی کے لئے صفات اللہ پر غور ضروری ہے اور اس سورۃ کے ابتداء میں ان چار صفات کو بیان کیا گیا ہے جو خلاصہ ہیں تمام صفات کا اور جن پر غور کرنے سے انسان تمام قسم کی بد اعتقادیوں اور بد عملیوں سے بچ سکتا ہے۔چنانچہ سب سے پہلے فرمایا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحہ : ۲) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔خدا کی ربوبیت کسی اللہ کے لئے ؟ اس کے لئے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔یہ ایک ایسا چھوٹا سا فقرہ ہے کہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن جتنا اس پر غور کیا جائے اتنا ہی خدا تعالی کی رحمت اور انعام کا پتہ لگتا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے سب تعریف اللہ کے لئے ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ سارے جہانوں کا رب ہے یعنی انسانوں کا ہی رب نہیں بلکہ حیوانوں کا بھی رب ہے۔اور حیوانوں کا ہی نہیں نباتات اور جمادات کا بھی رب ہے اور ہر چیز جو دنیا میں پائی جاتی ہے اس کی وہ ربوبیت کر رہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ شفقت کرنے والا ہے۔مسلمانوں میں سے بہت لوگ خدا کی ربوبیت کا یقین گناہوں سے دور کر دیتا ہے ایسے ہیں جو یہ تو کہتے ہیں کہ خدا رب العلمین ہے۔مگر غور نہیں کرتے کہ کس طرح ہے۔اسی طرح اہل ہنود میں سے ایسے ہیں جو خدا تعالٰی کو رب العلمین مانتے ہیں مگر غور نہیں کرتے کہ کس طرح ہے۔ایسے ہی عیسائیوں میں بھی لوگ ہیں۔اگر یہ سب لوگ غور کریں تو ان کے دل خدا کی محبت اور پیار سے ایسے بھر جائیں کہ وہ کبھی گناہ اور برائی کا نام تک نہ لیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس سے محبت اور پیار ہوتا ہے اس کی بات انسان رد نہیں کر سکتا۔پھر جب کوئی پیارا اور محبوب ایسی بات کہے جو مفید اور فائدہ مند بھی ہو تو اس کو کس طرح رد کیا جا سکتا ہے۔فرض کرلو بیٹا باپ سے کوئی ایسی چیز مانگتا ہے جس کے دینے میں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ فائدہ ہے۔ایسی صورت میں تو اگر دشمن بھی کچھ مانگے تو دینے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔چہ جائیکہ بیٹا مانگے اور باپ نہ دے۔پس جس سے محبت اور الفت ہوتی ہے اس کی بات قبول