انوارالعلوم (جلد 4) — Page 617
رالعلوم جلد ۴ 412 تقدیر الهی نہیں کہ انسان مقام صبر پر قائم رہے اور اپنے دشمن کے مقابلہ پر تدبیر سے کام نہ لے۔مقام صبر پر وہ تبھی قائم رہ سکتا ہے جب کہ اسے معلوم ہو کہ میرا امتحان لیا جا رہا ہے۔ورنہ اگر تدبیری ہوتی تو ایسے موقع پر وہ اور زیادہ جوش دکھلاتا۔بہت دفعہ جماعت کے لوگ پوچھتے تھے کہ ہمیں اجازت ہو تو مخالفین پر ان کی شرارتوں کی وجہ سے مقدمہ دائر کریں۔مگر حضرت صاحب یہی کہتے کہ ہمیں صبر کرنا چاہئے حالانکہ دشمنوں کی شرارتوں کو روکنے کے لئے مقدمہ کرنا نا جائز نہیں ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض دفعہ مؤمنوں پر ابتلاء خدا تعالی کی طرف سے آتے ہیں جن میں صبر د کھلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔تو مقام رضا اور صبر جو روحانیت کا ایک درجہ ہے وہ ایمان با تقدیر سے ہی پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس کے ماتحت انسان سمجھتا ہے کہ مجھ پر یہ ابتلاء خدا تعالی کی طرف سے ہے اور اس پر صبر کرتا ہے اور اس کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ جو بات آتی ہے اس کے متعلق کہتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اچھی ہے اور گو ابتلاؤں کے ایک حصہ میں اللہ تعالٰی کے حکم کے ماتحت تدبیر سے بھی کام لیتا ہے مگر ایک دوسرے حصہ کے متعلق خالی صبر اور رضا سے کام لیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جس پر پہنچے ہوئے لوگ مصیبت اور تکلیف کے وقت حقیقی طور پر اِنَّا لِللَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (القرة : ۱۵۷) کہتے ہیں۔غرض تقدیر ہی کی وجہ سے انسان ان مقامات کو حاصل کرتا ہے اگر تقدیر نہ ہوتی اور انسان صبر کرتا تو وہ بے ہمتی ہوتی اور اگر رضا ہوتی تو وہ بے غیرتی ہوتی۔لیکن تقدیر پر ایمان لاتے ہوئے جب وہ بعض ابتلاؤں پر جن کو وہ خالص آزمائش کہتا ہے اور صبر کرتا ہے تب اس کا صبر قابل تعریف ہوتا ہے۔اور بعض ابتلاؤں کو جن کو وہ خالص ایمان خیال کرتا ہے خدا تعالیٰ کے فعل پر رضا کا اظہار کرتا ہے۔تب اس کی رضا قابل تعریف ٹھرتی ہے۔اور بہترین صبر یہی ہے کہ انسان میں طاقت ہو اور پھر برداشت کرے۔اگر طاقت ہی نہ ہو تو پھر برداشت کرنا ایسا اعلیٰ درجہ صبر کا نہیں ہے اور اسی طرح رضا یہی ہے کہ انسان اس بات کا یقین رکھتے ہوئے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے اپنے دل میں بعض ابتلاؤں پر شرح صدر پاوے اور اگر یہ ایمان نہ ہو تو اس کو بے غیرتی کہیں گے۔اور دونوں میں امتیاز اس طرح ہوتا ہے کہ مقام رضا پر پہنچا ہوا انسان اپنے دوسرے اعمال میں نہایت چست اور باہمت اور محنتی ہوتا ہے اور اس کا حوصلہ دوسرے لوگوں کی نسبت غیر معمولی طور پر بڑھا ہوا ہوتا ہے۔رضا کے لفظ پر مجھے ایک بات یاد آگئی۔حضرت صاحب کی وفات سے پہلے ایام کا ذکر ہے۔