انوارالعلوم (جلد 4) — Page 616
العلوم چاند ۴ 414 سب کار خانہ باطل ہو جائے۔اور روحانیت میں یہ فائدہ ہے کہ حق اس سے قائم رہتا اور ایمان حاصل ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ جس طرح ایک زمیندار یہ دیکھ کر کہ گیہوں ہونے سے گیہوں ہی پیدا ہوتا ہے بیج ڈالتا ہے۔اسی طرح جب لوگ شریعت کے احکام پر چلنے کے نیک نتائج دیکھتے ہیں تو ان کو بھی ان پر عمل کرنے کی جرأت اور جوش پیدا ہوتا ہے اور انہیں ایمان حاصل کرنے کی تحریک ہوتی ہے۔ورنہ جب نبی آتے تو لوگ انہیں دھکے دے کر باہر نکال دیتے اور کہتے کہ جب ان کے ماننے کا کوئی فائدہ نہیں تو انہیں کیوں مانیں؟ محمد رسول اللہ کو لوگوں نے کیوں مانا؟ اسی لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ آپ کی تعلیم پر عمل کر کے انسان کی روحانی اور اخلاقی حالت کچھ کی کچھ ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت آپ " کے ماننے والوں کے شامل حال ہوتی ہے۔پس ان کے دل میں بھی تحریک ہوئی کہ ہم بھی اس تقدیر سے فائدہ اٹھا ئیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کو اپنے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے جذب کریں۔پس تقدیر عام شرعی کے ماتحت دوسروں کے لئے ایک مثال قائم ہوتی ہے اور وہ درجہ دوم اس سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ کرتے ہیں۔تب ان کے لئے تقدیر خاص جاری ہوتی ہے اور اس کے ماتحت وہ اور بھی زیادہ ترقی کرتے ہیں اور درجہ دوم میں داخل ہو جاتے ہیں یعنی تقدیر پر ایمان ان کو مقام صبر اور رضا تک پہنچا دیتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ابتلاؤں میں ڈالنے کی سنت رکھی ہوئی ہے۔جب وہ ایمان لاتے ہیں تو انہیں ابتلاؤں میں ڈالا جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أحَسِبُ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَذِبِينَ (العنكبوت: ۴۳) کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائیں اور فتنہ میں نہ ڈالے جائیں صادق اور کاذب میں فرق کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ فتنہ میں ڈالے جائیں۔تو جب کوئی ایمان لاتا ہے تو اس کے لئے خدا تعالی کی طرف سے ابتلاء مقدر کئے جاتے ہیں جن میں سے بعض تو اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور بعض خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔مثلاً کسی کے ہاں بیٹا پیدا کیا جاتا ہے اور وہ مرجاتا ہے۔یہ بیٹا اسی لئے پیدا کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ ابتلاء میں ڈالا جائے یا اسی طرح کسی کا مکان گر جائے یا دشمن کوئی ضرر پہنچائے۔اب اگر تدبیر ہی تدبیر ہے تو پھر کوئی وجہ