انوارالعلوم (جلد 4) — Page 609
انوار العلوم جلد نمکین اور کبھی کھٹی کبھی کھیلی اور کبھی کسی اور مزے کی تو کیا کوئی مصری یا کھانڈ کو استعمال کر سکتا۔یہ جس قدر کارخانہ عالم چل رہا ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ مسئلہ تقدیر ہے۔خدا تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے کہ میٹھا میٹھے کا مزا دے۔کھٹا کھنے کا مزا دے۔آگ سے کھانا پکے۔روٹی سے پیٹ بھرے وغیرہ وغیرہ۔اور لوگوں نے اس کا تجربہ کر لیا ہے۔پس وہ ان باتوں کے لئے روپیہ صرف کرتے ہیں۔محنت برداشت کرتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ دنیا کا جتنا کاروبار اور جتنی ترقیاں ہیں وہ سب تقدیر کے مقرر ہونے کی وجہ سے ہیں۔اگر یہ نہ ہوتی تو دنیا ہی نہ ہوتی۔اور اس کا کار خانہ نہ چل سکتا پس انسان کی زندگی تقدیر کے ساتھ قائم ہے کیونکہ انسان کھانے پینے اور دوسری ضروریات کے پورا ہونے سے زندہ رہ سکتا ہے اور ان ضروریات کے پورا کرنے کے لئے وہ سبھی محنت کرتا ہے جب وہ جانتا ہے کہ میری کوشش کا کوئی مفید نتیجہ نکلے گا۔اگر کوئی قاعدہ مقرر نہ ہوتا تو وہ محنت بھی نہ کرتا اور زندہ بھی نہ رہتا۔یہ تو عام تقدیر کے نہ ہونے کا نقصان تھا۔اب تقدیر خاص کے نہ ہونے کے متعلق بتاتا ہوں۔جس طرح تقدیر عام سے دنیا کا قیام اور اس کی تقدیر خاص کے نہ ہونے کے نقصان ترقی وابستہ ہے۔اسی طرح روحانیت کا قیام اور اس کی ترقی تقدیر خاص سے وابستہ ہے۔اور جس طرح اگر تقدیر عام نہ ہوتی تو دنیا باطل ہوتی اسی طرح اگر تقدیر خاص نہ ہوتی تو روحانیت باطل ہو جاتی۔اس کا پہلا نقصان تو یہ ہے کہ اس کے بغیر انسان خدا پر ایمان نہیں لا سکتا۔اس لئے کہ خدا پر ایمان لانے کی بڑی سے بڑی دلیل یہ دنیا کا کارخانہ ہے کہ اتنے بڑے کارخانہ کا بنانے والا کوئی ہونا چاہئے۔چنانچہ کسی فلسفی نے ایک اعرابی سے پوچھا تھا کہ تمہارے پاس خدا کے ہونے کی کیا دلیل ہے۔اس نے کہا کہ جب میں مینگنی دیکھتا ہوں تو سمجھ لیتا ہوں کہ ادھر سے کوئی بکری گزری ہے۔یا اونٹ کا پاخانہ دیکھتا ہوں تو معلوم کر لیتا ہوں کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے یا پاؤں کے نشان دیکھ کر معلوم کر لیتا ہوں کہ ادھر سے کوئی انسان گزرا ہے تو کیا اتنے بڑے کارخانہ کو دیکھ کر میں نہیں سمجھ سکتا کہ خدا ہے؟ مگر یہ دلیل مکمل نہیں ہے۔کیونکہ اس سے یہی ثابت ہے کہ خدا ہونا چاہئے نہ یہ کہ ہے۔حضرت صاحب نے اس کے متعلق براہین احمدیہ میں خوب کھول کر لکھا ہے۔اب سوال ہو سکتا ہے کہ پھر کس طرح معلوم ہو کہ خدا ہے؟ یہ بات اسی طرح معلوم