انوارالعلوم (جلد 4) — Page 606
نوم جلد ۴ ۶۰۶ تقدیر الهی کرنے کے یہ کہہ کر اپنی ستی پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اگر قسمت ہوئی تو مل کر رہے گا اور نادان نہیں سوچتے کہ تم کب اس قابل ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو بدل کر ایک خاص تقدیر جاری کرے گا اور تمہارے لئے رزق مہیا کرے گا۔اور پھر بات تو تب تھی کہ سب کام چھوڑ دیتے۔لیکن ایسا نہیں کرتے جس کام کے بغیر چارہ نہ ہو اسے کرنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔یا جو کام زیادہ قربانی اور محنت نہ چاہتا ہو اس کے کرنے میں عذر نہیں کرتے۔اگر قسمت پر ایسا ایمان تھا تو پھر چھوٹے چھوٹے کام کیوں کرتے ہو ؟ در حقیقت ان لوگوں کا فعل اس لومڑی کے فعل سے بھی بدتر ہے نہ صرف اس لئے کہ اس نے کوشش کے بعد چھوڑا اور یہ بغیر کوشش کے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ اس نے تو اپنے ترک عمل کو انگوروں کے کھٹے ہونے کی طرف منسوب کیا اور یہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔یہ لوگ خود ست ہوتے ہیں کام کرنے کو جی نہیں چاہتا محنت سے دل گھبراتا ہے اور اسے موت سے بدتر خیال کرتے ہیں لیکن جب ترقیات کے راستوں پر قدم زن ہونے کے لئے انہیں کہا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں اگر فلاں چیز نے ملنا ہو گا تو آپ ہی مل رہے گی ہمارے محنت کرنے سے کیا ملتا ہے اور اس طرح اپنی کمزوری تقدیر کی چادر میں چھپاتے ہیں۔پھر گالی کے طور پر تقدیر کو استعمال کرتے ہیں۔یعنی جس کو گالی دینی ہو اسے کہتے ہیں چل ر قسمت۔گویا جس طرح اور برے الفاظ ہیں اسی طرح قسمت کا لفظ ہے۔اور ان کے نزدیک خدا کی اس نعمت کا استعمال یہ ہے کہ اپنی زبانوں کو گندہ کریں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے تقدیر اس لئے جاری کی تھی کہ انسان اس کے ذریعہ اپنے آپ کو پاک کریں۔پھر اس کا ایک استعمال خدا کو گالیاں دینے کے لئے ہوتا ہے۔خدا نے تو تقدیر اس لئے بنائی ہے کہ خدا سے انسان کا تعلق مضبوط ہو مگر وہ اس کا الٹا استعمال کرتے ہیں۔اگر بعض لوگوں کے گھروں میں کوئی موت ہو جائے۔مثلاً کوئی بچہ مرجاوے تو وہ کہتا ہے کہ " رتبا تیرا پتر مردا تے تینوں پتہ لگدا " یعنی اے خدا تیرا لڑکا مرتا تو مجھے معلوم ہوتا کہ اس کا کس قدر صدمہ ہوتا ہے۔نعوذ باللہ من ذالک گویا خدا نے ان پر بڑا ظلم کیا ہے۔اور وہ چاہتے ہیں کہ خدا پر بھی ایسا ہی ظلم ہو۔یہاں ایک شخص تھے بعد میں وہ بہت مخلص احمدی ہو گئے اور حضرت صاحب سے ان کا بڑا تعلق تھا۔مگر احمدی ہونے سے قبل حضرت صاحب ان سے میں سال تک ناراض رہے۔وجہ یہ کہ حضرت صاحب کو ان کی ایک بات سے سخت انقباض ہو گیا۔اور وہ اس طرح کہ ان