انوارالعلوم (جلد 4) — Page 575
رالعلوم جلد ۴ ۵۷۵ تقدیر الی مطابق کر دیا جاتا ہے یا تقدیر عام کے قواعد کو توڑ دیا جاتا ہے۔جیسے حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے کے وقت۔مگریہ تقدیر ہر ایک کے لئے اور ہر روز نازل نہیں کی جاتی بلکہ یہ تقدیریں خاص بندوں کے لئے نازل ہوتی ہیں یا ان کی مدد کے لئے یا ان کے دشمنوں کی ہلاکت کے لئے۔کیونکہ خاص سلوک خاص ہی لوگوں سے کیا جاتا ہے۔یا ان تقدیروں کے نزول کا محرک کسی شخص کی قابل رحم حالت ہوتی ہے جو خواہ خاص طور پر نیک نہ ہو مگر اس کی حالت خاص طور پر قابل رحم ہو جائے۔اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت جوش میں آکر اس کی صفت قادریت کو جوش میں لاتی ہے۔جو اس مسکین کی مصیبت کو دور کرتی یا اس پر ظلم کرنے والے کو سزا دیتی ہے۔یہ تقدیر خاص جو نازل ہوتی ہے کبھی انسانی اعضاء پر بھی نازل ہوتی ہے یعنی انسان کو مجبور کر کے اس سے ایک کام کروایا جاتا ہے۔مثلاً زبان کو حکم ہو جاتا ہے کہ وہ ایک خاص فقرہ بولے اور خواہ بولنے والے کا دل چاہے نہ چاہے اسے وہ فقرہ بولنا پڑتا ہے اور اس کی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس کو روک سکے۔یا کبھی ہاتھ کو کوئی حکم ہو جاتا ہے اور کبھی سارے جسم کو کوئی حکم ہو جاتا ہے۔اور اس وقت انسان کا تصرف اپنے ہاتھ یا جسم پر نہیں رہتا بلکہ خدا تعالیٰ کا تصرف ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت عمرؓ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ان کی خلافت کے ایام میں وہ منبر پر چڑھ کر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ بے اختیار ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔يَا سَادِيَةٌ اَلْجَبَلُ، يَا سَارِيَةُ الْجَبَل یعنی اے ساریہ پہاڑ پر چڑھ جا۔اے ساریہ پہاڑ پر چڑھ جا۔چونکہ یہ فقرات بے تعلق تھے لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے یہ کیا کہا؟ تو آپ نے فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا کہ ایک جگہ ساریہ جو اسلامی لشکر کے ایک جرنیل تھے کھڑے ہیں اور دشمن ان کے عقب سے اس طرح حملہ آور ہے کہ قریب ہے کہ اسلامی لشکر تباہ ہو جائے۔اس وقت میں نے دیکھا تو پاس ایک پہاڑ تھا کہ جس پر چڑھ کر وہ دشمن کے حملہ سے بچ سکتے تھے۔اس لئے میں نے ان کو آواز دی کہ وہ اس پہاڑ پر چڑھ جائیں۔ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ ساریہ کی طرف سے بعینہ اسی مضمون کی اطلاع آئی اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس وقت ایک آواز آئی جو حضرت عمرؓ کی آواز سے مشابہ تھی جس نے ہمیں خطرہ سے آگاہ کیا اور ہم پہاڑ پر چڑھ کر دشمن کے حملہ سے بچ گئے۔( تاریخ ابن کثیر ار در جلد ۷ صفحہ ۲۶۵-۲۶۷) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کی زبان اس وقت ان کے اپنے قابو سے نکل گئی تھی اور اس قادر مطلق ہستی کے قبضہ میں تھی جس کے لئے فاصلہ اور دوری کوئی شے ہے ہی نہیں۔