انوارالعلوم (جلد 4) — Page 562
انوار العلوم بلدم ۵۶۲ تقدیر الهی کر سکتا۔پس ان باتوں کو نہ مجھ سے پہلے لوگ بیان کر سکے نہ میں بیان کر سکتا ہوں۔تقدیر کے مسئلہ کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ تقدیر کی اقسام تقدیر کئی قسم کی ہوتی ہے اور ان اقسام میں سے میں اس وقت چار قسمیں بیان کروں گا۔اور وہ چونکہ ایسی ہیں جو عام بندوں سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے لوگ انہیں سمجھ سکتے ہیں اور وہ سمجھائی جاسکتی ہیں۔ان میں سے ایک کا نام میں تقدیر عام طبعی رکھوں گا یعنی وہ جو دنیا کے معاملات میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہے۔یعنی آگ میں یہ خاصیت ہے کہ جلائے۔پانی میں یہ خاصیت ہے کہ پیاس بجھائے اور لکڑی میں یہ کہ جلنے۔تاگے میں یہ کہ جب اسے خاص طرز پر کام میں لایا جائے تو کپڑا بنے۔روٹی میں یہ کہ پیٹ میں جائے تو پیٹ بھر جائے۔یہ سب تقدیر ہے جو خدا کی طرف سے جاری ہے۔انسان کا اس میں دخل نہیں۔یہ عام ہے اور طبعی معاملات سے تعلق رکھتی ہے۔روح سے اس کا تعلق نہیں بلکہ جسم سے ہے۔یا یہ کہ آگ جلانا انگور کی بیل کو انگور لگنا، کھجور کے درخت کو کھجور لگنا، بعض درختوں کے پیوند کا آپس میں مل جانا بچہ کا نو ماہ یا ایک خاص مدت میں پیدا ہونا، یہ سب ایسے قانون ہیں جو عام طور پر جاری ہیں ان کا نام میں تقدیر عام طبعی رکھتا ہوں۔دوسری تقدیر خاص طبعی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک تقدیر عام ہے جیسے کہ قانون مقرر ہے کہ آگ جلائے۔سورج کی تمازت کے نیچے گرمی محسوس ہو۔سورج کی گرمی سے پھل پکیں۔فلاں چیز سے صحت ہو فلاں سے بیماری ہو۔یہ تو تقدیر عام طبعی ہے۔لیکن ایک خاص تقدیر طبعی ہے۔یعنی بعض دفعہ خاص طور پر اللہ تعالٰی کی طرف سے احکام نازل ہوتے ہیں کہ فلاں شخص کو دولت مل جاوے۔فلاں چیز کو جلا دیا جاوے۔فلاں شخص کو مار دیا جاوے فلاں کے ہاں بچہ پیدا ہو (خواہ اس کی بیوی بانجھ ہی کیوں نہ ہو) یہ احکام خاص ہوتے ہیں۔کسی عام طبعی قانون کے ماتحت نہیں ہوتے یعنی ایسے طبعی قانون کے ماتحت نہیں ہوتے جس کا لازمی نتیجہ اسی شکل میں نکلنا ضروری ہے جس شکل میں کہ کسی خاص شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کے خاص احکام کے ماتحت ظاہر ہوا ہے۔تیسری قسم تقدیر کی تقدیر عام شرعی ہے۔مثلا یہ کہ اگر انسان اس رنگ میں نماز پڑھے تو اس کا یہ نتیجہ ہو اور اس رنگ میں پڑھے تو یہ ہو۔روزہ رکھے تو یہ خاص روحانی تغیر پیدا ہو۔