انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 558

انوار العلوم جلد ۴ ۵۵۸ تقدیر الهی حاصل کرنے کے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نہ جستجو کرتا ہے نہ کسی بات کو محنت سے حاصل کرتا ہے۔ہر چیز اسی کے تابع فرمان ہے اور اس کے ایک ذرا سے اشارہ پر اس کی رضا کو پوری کرنے کے لئے تیار ہے۔پھر وہ تکلیف سے بالکل پاک ہے وہ کہتا ہے کہ یوں ہو جائے اور اسی طرح ہو جاتا ہے۔پس اس کے لئے کسب کا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔اور اس لفظ کے استعمال سے جو امتیاز قائم ہو گیا ہے وہ اور کسی لفظ سے نہیں ہو سکتا تھا۔ان الفاظ کی مختصر حقیقت بیان کرنے کے بعد اب میں اس سوال کی طرف آتا ہوں کہ قرآن کریم سے کیا ثابت ہے کہ وہ بندوں سے کس طرح معاملہ کرتا ہے ؟ آیا ان کا ہر ایک فعل اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہوتا ہے یعنی صدقہ خیرات خوش خلقی، ہمدردی یا چوری، ڈاکہ، لنگی سب کچھ خدا ہی کراتا ہے۔یا یہ کہ بندوں کو اس نے چھوڑ رکھا ہے کہ وہ کمالیں اور جیسا جیسا وہ کمائیں ویسا ویسا بدلہ پائیں۔قرآن کریم سے دونوں باتیں ثابت ہوتی ہیں۔لیکن پیشتر اس کے کہ میں اس مسئلہ تقدیر بر پر صرف لفظی ایمان لانا کافی نہیں مضمون پر کچھ بیان کروں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں نے اس معاملہ میں بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔انہوں نے خیال کر لیا ہے کہ صرف تقدیر پر ایمان لے آنا کافی ہے۔حالانکہ اس کے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت تھی کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کو ایمان کی شرط قرار دیا ہے۔اور جب یہ ایمان کی شرط ہے تو معلوم ہوا کہ ہمارے لئے مفید بھی ہے ورنہ اس پر ایمان لانا ضروری نہ ٹھہرایا جاتا۔مثلاً خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم ہے۔اس سے یہ فائدہ ہے کہ انسان کو اپنے محسن کا علم ہوتا ہے اور اس سے تعلق قائم کرنا جو اس کی ترقی کا موجب ہے اور اس کی پیدائش کی واحد غرض ہے اسی ایمان کے نتیجہ میں حاصل ہو سکتا ہے۔اور پھر یہ بھی فائدہ ہے کہ اس علم اور ایمان سے انسان سمجھتا ہے کہ ایک ایسی ہستی ہے جس کے سامنے مجھے اپنے اعمال کے متعلق جوابدہی کرنی پڑے گی۔اسی طرح انبیاء پر ایمان لانے کا حکم ہے۔اس کا فائدہ ہے کہ ان کے ذریعہ انسان کو خدا تک پہنچنے کا رستہ معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح فرشتوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔اس کا یہ فائدہ ہے کہ انسان یہ مانتا ہے کہ وہ نیک تحریکیں کرتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان سے تعلق پیدا کر کے ہدایت کے راستہ پر قدم زن ہونے کے لئے مددگار اور دوست پیدا کر لیتا ہے۔اسی طرح خدا کی کتابوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔اس کا یہ