انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 540

لوم جلد بهم ۵۴۰ تقدیر الهی پہلوؤں کو لیتے تو ٹھو کر نہ کھاتے۔ہم نے دونوں پہلوؤں کو لیا ہے کہ آپ نبی بھی ہیں اور امتی بھی۔تو یہ عام قاعدہ ہے کہ جن لوگوں میں تقویٰ اور دیانت نہیں ہوتی اور نہ صاف طور پر انکار کرنے کی جرأت ہوتی ہے وہ یہ طریق اختیار کیا کرتے ہیں کہ ایک حصہ کو لے لیتے ہیں اور دوسرے کو چھوڑ دیتے ہیں اور ایک حصہ کو لے کر کہتے ہیں کہ ہم تو اس کو مانتے ہیں۔حالانکہ وہ در حقیقت نہیں مانتے جیسا کہ بعض مسلمان کہلانے والے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم قرآن کے حلم لا تَقْرَبُو الصَّلوةَ (النساء: ۴۴) پر عمل کرتے ہیں۔جب کہا جائے کہ اس کے اگلے حصہ کو کیوں چھوڑتے ہو تو کہتے ہیں سارے قرآن پر کون عمل کر سکتا ہے۔تو یہ ایک فتنہ کا طریق ہوتا ہے تقدیر کے متعلق مسلمانوں کے غلط عقائد کی بنیاد اور اس سے رسول کریم نے منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس مسلمانوں نے ممانعت کا کوئی خیال نہ کیا اور اس پر عمل کر کے بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ان میں سے بعض نے اپنے عقائد کی بنیاد یونانی فلسفہ پر رکھی۔بعض نے ہندوستان کے فلسفیوں کے عقائد پر رکھی یعنی وحدت وجود پر بعض نے دہریت پر۔ہندوستان میں وحدت الوجود کا مسئلہ بہت پھیلا ہوا تھا۔اس میں اور تقدیر میں کوئی فرق نہ سمجھا گیا اور اسی کو تقدیر قرار دے دیا گیا اور اس پر اپنے عقائد کی بنیاد رکھ کر یہ سمجھ لیا گیا کہ جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ خدا ہی کراتا ہے بندہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔گویا بندہ بندہ ہی نہیں بلکہ خدا ہے۔ان کے مقابلہ میں دوسروں نے یہ کہا کہ جو کچھ انسان کرتا ہے اس میں خدا کا کوئی دخل نہیں ہے۔سب کچھ بندہ کے اپنے ہی اختیار میں ہے۔اس عقیدہ کی بنیاد فلسفہ یونان پر تھی۔تو ان دونوں فلسفوں پر مسلمانوں نے تقدیر کے متعلق اپنے عقائد کی بنیاد رکھی اور پھر ان حقیقت اور اصلیت سے دور فلسفوں کو قرآن کریم کے ذریعہ مضبوط کرنا چاہا چنانچہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمارا چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، چوری کرنا زنا کرنا ڈاکہ مارنا، ٹھگی کرنا سب خدا کا ہی فعل ہے ہمارا نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہی قرآن سے ثابت ہے۔اور جنہوں نے کہا کہ خدا پارلیمینٹری حکومت کے بادشاہ جتنا بھی ہمارے افعال میں اختیار نہیں رکھتا۔ایسا بادشاہ تو پھر بھی احکام پر دستخط کرتا ہے لیکن خدا اتنا بھی نہیں کرتا بلکہ ایک ایسا وجود ہے جس کا دنیا کے کاروبار میں کوئی دخل نہیں ہے۔وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ قرآن سے ثابت ہے حالانکہ دونوں کی باتیں غلط ہیں۔