انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 539

رالعلوم جلد ۴ ۵۳۹ تقدیر الهی دخل دیا ہے اور بجائے اس کے کہ اپنے عقیدے کی خدا تعالیٰ کے بیان یعنی قرآن کریم پر بناء رکھتے انہوں نے اپنی عقل پر بناء رکھی اور پھر قرآن کریم سے اس کی تائید چاہی۔اور قرآن وہ ہے جو کہتا ہے كُلا تُمِد هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ (بنی اسرائیل: ۲۱) پھر وہ ہر مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو بیان کرتا ہے۔اب اگر کوئی کسی مسئلہ کے ایک پہلو کو لے لے اور باقیوں کو چھوڑ دے تو وہ کہے گا تو یہی کہ میں نے قرآن سے لیا ہے لیکن دراصل اس نے قرآن سے نہیں لیا بلکہ قرآن کو آڑ بنا لیا ہے۔اگر وہ قرآن سے لیتا تو اس کے سب پہلوؤں کو لیتا نہ کہ ایک پہلو کو لے لیتا اور باقیوں کو چھوڑ دیتا۔ایک دفعہ میں ایک جگہ گیا۔اس وقت میں چھوٹا بچہ تھا اور مدرسہ میں پڑھتا تھا۔وہاں میں نے بورڈنگ میں دیکھا کہ ایک لڑکا ریوڑیاں کھا رہا تھا اور ایسی طرز پر کھا رہا تھا کہ اس کی حالت قابل نہیں تھی۔یعنی ریوڑیوں کو اس نے چھپایا ہوا تھا جیسے ڈرتا ہے کہ اور کوئی نہ دیکھ لے۔مجھے ہنسی آگئی اور میں نے پوچھا یہ کیا کرتے ہو؟ کہنے لگا سنا ہے حضرت مسیح موعود کو ریوڑیاں پسند ہیں اس سنت کو پورا کرتا ہوں۔میں نے کہا آپ تو کو نین بھی کھاتے ہیں وہ بھی کھاؤ۔تو جہاں انسان اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے وہاں ایک پہلو لے لینا اور دوسرا چھوڑ دینا ہمیشہ ایسی باتوں کو لے لیتا ہے جو اس کے حق میں مفید ہوں اور دوسری باتوں کو چھوڑ دیتا ہے۔مگر جو لوگ حق کے طالب ہوتے ہیں وہ سب پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہیں اور یہ پرواہ نہیں کرتے کہ اس طرح ہمارے خیال یا میلان کے خلاف کوئی اثر پڑے گا۔اب اسی اختلاف کو دیکھ لو جو ہماری جماعت میں ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں شرعی نبی نہیں۔ہاں ایسا نبی ہوں کہ رسول کریم کا خادم ہونے کی وجہ سے نبوت کا درجہ ملا اور میں امتی نبی ہوں۔اب ایک دو آدمی اٹھے جو کہتے ہیں کہ اگر نبی کے لئے شریعت لانا ضروری ہے تو حضرت مسیح موعود بھی کہتے ہیں کہ میں احکام شریعت لایا ہوں پس آپ شرعی نبی ہوئے۔انہوں نے دوسرا پہلو چھوڑ دیا پھر کچھ اور لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میں نبی نہیں ہوں پس آپ کسی قسم کے نبی نہیں۔انہوں نے بھی دوسرا پہلو چھوڑ دیا۔لیکن ہم دونوں پہلوؤں کو لیتے ہیں کہ حضرت صاحب شریعت والے نبی نہیں ہیں لیکن امتی نبی ہیں۔اگر اختلاف کرنے والے لوگ دونوں