انوارالعلوم (جلد 4) — Page 538
انوار العلوم جلد " ۵۳۸ تقدیرانی نجات خاص کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔پس یہ مسئلہ بہت اہم ہے اور اس کو نہ سمجھ کر ہندوؤں میں تناسخ ، عیسائیوں میں کفارہ اور یہودیوں میں نجات خاص، سائنس دانوں میں دہریت اور مسلمانوں میں ایک طرف اباحت اور دوسری طرف ذلت و نکبت آئی ہے۔اگر یہ لوگ اس مسئلہ کو سمجھتے تو کبھی ٹھو کر نہ کھاتے۔چنانچہ قرآن کریم مختلف اقوام کی گمراہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقٌّ قَدْرِهِ - (الانعام:۹۲) انہوں نے خدا تعالیٰ کی صفات کے مسئلہ کو اچھی طرح نہیں سمجھا اسی سے ٹھوکر کھا کر انہوں نے نئے نئے عقیدے پیدا کرلئے۔۔تو تمام مذاہب کی حقیقت اور اصلیت سے پھر جانے کی یہی وجہ ہے کہ ان کے پیرؤوں نے صفات الہیہ کے ظہور کے مسئلہ کو یعنی تقدیر کو صحیح طور پر نہ سمجھا۔پس یہ نہایت نازک مسئلہ ہے اور اس میں بہت غور و تحقیق اور بہت بڑی احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ انسان ایک طرف ایمان پر قائم ہو جائے اور دوسری طرف خدا کے غضب سے بھی بچا رہے ورنہ بغیر اس کی تحقیق اور اس کے جاننے کے اس کا ماننا ہی کیا ہوا؟ کیا کہیں خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ اگر ہمالیہ پہاڑ کو مان لو کہ پہاڑ ہے یا راوی دریا کو مان لو کہ دریا ہے یا لاہور شہر کو مان لو کہ شہر ہے تو نجات پا جاؤ گے ؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ ان چیزوں کا مانا نجات کا باعث نہیں ہو سکتا کیونکہ نجات کا باعث وہی چیزیں ہو سکتی ہیں اور روحانیت کی ترقی انسی چیزوں سے ہو سکتی ہے جو روحانیت سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا ماننا یہی ہے کہ ان کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اگر ان کی حقیقت کو نہ سمجھا جائے تو پھر ماننا کیسا؟ پس اس مسئلہ کو ماننے کے مسلمانوں نے مسئلہ تقدیر میں بیہودہ طور پر دخل دیا لئے اس کے متعلق نہایت غور و فکر کی ضرورت ہے مگر ادھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس مسئلہ میں جن قوموں نے تنازع کیا ہے وہ ہلاک کی گئی ہیں اور میری امت میں سے بھی ایک قوم ہوگی جو اسی وجہ سے مسخ کی جائے گی (ترمذی۔ابواب القدر باب ما جاء في الرضاء بالقضاء مگر باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ نے اس میں تنازع نہ کرنے کے متعلق تاکید فرمائی ہے اور باوجود اس کے کہ اسے ایمان کا جزو قرار دیا ہے افسوس ہے کہ مسلمانوں نے نہایت بیہودہ طور پر اس میں