انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 523

انوار العلوم جلد ۴ ۵۲۳ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حکمت سے بھی کام لینا چاہئے۔ اور سمجھانے کی ایسی طرز اور ایسا طریق ہونا چاہئے کہ جس کو سمجھایا جائے اسے نہ تو غصہ آوے اور نہ سمجھنا اس کے لئے مشکل ہو۔ اگر عام وعظ ہو تو بھی ایسے رنگ میں بیان کیا جائے کہ جس کو سمجھانا ہو اس کی طرف کوئی اشارہ نہ ہو۔ میں تو اتنی احتیاط کیا کرتا ہوں کہ اگر کسی خاص واقعہ سے مجھے کسی نصیحت کرنے کی تحریک ہو تو بالعموم کئی ماہ کے بعد جاکر اس کا ذکر وعظ میں کرتا ہوں اور وہ بھی عام رنگ میں تاکہ لوگوں کا ذہن اس واقعہ کی طرف نہ منتقل ہو۔ دوسری شق اس فرض کی عام تبلیغ ہے اور اس کی بھی آگے دو شقیں ہیں۔ ایک وہ عام تبلیغ جو ہر ایک فرد پر منفردانہ طور پر واجب ہے۔ یعنی ہر ایک مسلمان کا فرض رکھا گیا ہے کہ وہ اپنی لیاقت کے بموجب اسلام کی صداقت کو دنیا میں پھیلائے۔ انسان کے دل میں اس جذبہ کا پیدا ہو جانا بہت بڑی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود جب فوت ہوئے تو یہ سمجھا گیا کہ آپ اچانک فوت ہو گئے ہیں۔ لیکن مجھے پہلے سے اس کے متعلق کچھ ایسی باتیں معلوم ہو گئی تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی بڑا انقلاب آنے والا ہے۔ مثلاً میں نے رویا میں دیکھا کہ میں مقبرہ بہشتی سے ایک کشتی پر آرہا ہوں۔ رستہ میں پانی اس زور شور کا تھا کہ سخت بھنور پڑنے لگا اور کشتی خطرہ میں پڑگئی۔ جس سے سب لوگ جو کشتی میں بیٹھے تھے ڈر نے لگے ۔ جب ان کی حالت مایوسی تک پہنچ گئی تو پانی میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک تحریر تھی اس میں لکھا تھا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے ان سے درخواست کرو تو کشتی نکل جائے گی۔ میں نے کہا یہ تو شرک ہے۔ خواہ ہماری جان چلی جائے ہم اس طرح نہیں کریں گے۔ اتنے میں خطرہ اور بھی بڑھ گیا اور ساتھ والوں میں سے بعض نے کہا کیا حرج ہے ایسا ہی کر دیا جائے۔ اور انہوں نے پیر صاحب کو چٹھی لکھ کر بغیر میرے علم کے پانی میں ڈال دی۔ جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اس چٹھی کو کود کر نکال لیا اور جونہی میں نے ایسا کیا وہ کشتی چلنے لگ گئی اور خطرہ جاتا رہا۔ جب حضرت صاحب فوت ہوئے اس وقت خدا تعالیٰ نے میرا دل نہایت مضبوط کر دیا۔ اور فوراً میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ اب ہم پر بہت بڑی ذمہ داری آپڑی ہے۔ اور میں نے اس وقت عہد کیا کہ الہی میں تیرے مسیح موعود کی لاش پر کھڑا ہو کر اقرار کرتا ہوں کہ خواہ اس کا کام کرنے کے لئے دنیا میں ایک بھی انسان نہ رہے تو بھی میں کرتا رہوں گا۔ اس وقت مجھ