انوارالعلوم (جلد 4) — Page 522
م چاند ۴ ۵۲۲ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ - ۱ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا، قَالُوْا مَعْذِرَةً إِلى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ، فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَيْيْسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (الاعراف: ۱۲۶۰۱۶۵) جب پڑھتے تو رو پڑتے۔کیونکہ فرماتے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب الہی سے صرف وہی گروہ بچتا ہے۔جو دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے۔اور آج کل مسلمانوں میں ایسے لوگ ہیں جو اس کام سے جی چراتے ہیں یہ تو عبد اللہ بن عباس کا اس زمانہ کے لوگوں کے متعلق خیال ہے جن میں سے کثیر حصہ حق گوئی میں مشہور تھا۔اگر آج کل کا حال دیکھا جاوے تو حق پوشی کی کوئی انتہاء ہی نہیں۔لوگ تبلیغ سے اس طرح ڈرتے ہیں جس طرح موت سے خوف کیا جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کو کتنا بڑا فرض قرار دیا ہے فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمَا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا قَالُوا مَعْذِرَةٌ إِلى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ، فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍ بَيْيْسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (الاعراف: (۱۶۶۱۷۵ ایک قوم تھی اس میں کچھ لوگ ایسے تھے جو اپنی قوم کو وعظ کرتے تھے۔ان کو ایک اور فریق نے کہا کہ تم کیوں اس قوم کو وعظ کرتے ہو یہ تو ہلاک ہونے اور سخت عذاب پانے والی ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس وجہ سے ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ (۱) خدا تعالیٰ کے سامنے معذرت کر سکیں کہ ہم نے اپنی طرف سے بات پہنچادی تھی۔(۲) اس لئے کہ سمجھانے سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے شاید لوگ ہدایت پاویں اور تقویٰ اختیار کرلیں۔لیکن جب ان لوگوں کی نے سمجھانا ترک کر دیا ان باتوں کا جن کی بابت ان کو سمجھایا جاتا تھا۔تو ہم نے ان لوگوں کو جو برے کاموں سے روکتے تھے۔بچالیا۔اور ظالموں کو ان کے بد اعمال کی وجہ سے ہلاک کر دیا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ روکنے والے تھے صرف وہ عذاب سے بچائے گئے اور باقی سب ظالم قرار دے کر ہلاک کئے گئے۔پس لوگوں کو برائیوں سے بچنے کا امر بالمعروف کی تلقین حکمت سے کرنی چاہئے وعظ کرنا بہت ضروری اور اہم امر ہے۔اس کی ادائیگی کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے۔اور اس کو کبھی نظر انداز نہیں ہونے دیتا