انوارالعلوم (جلد 4) — Page 518
۵۱۸ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۶۱۹۱۹ کرنے والوں کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔پس سور ہی ہے جس نے چند ہاتھوں میں دولت کو دے دیا ہے اور یہ ابتری پھیل رہی ہے۔لیکن اسلام نے یہ ہرگز جائز نہیں رکھا کہ چند لوگوں کے پاس دولت جمع ہو جائے اور باقی سب لوگ بھوکے مرتے رہیں۔اس لئے اسلام نے مالدار پر اپنے مال کا چالیس واں حصہ ہر سال دیتا ضروری قرار دیا ہے۔تو یورپ کی موجودہ خطرناک حالت سے سُود کا بڑا تعلق ہے۔دوسرے ایک اور بات گذشتہ جنگ کی خبر قرآن میں اور اس کا تعلق سُود سے جو سود ہی کا خطرناک نتیجہ تھی وہ حال ہی کی جنگ تھی۔اور اس جنگ کی خبر قرآن کریم میں عجب رنگ میں دی گئی تھی چنانچہ آتا ہے۔الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرّبوا لا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَسِ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الربُوا وَاَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبوا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ أَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ GNANO الله الرّبوا وَيُرْبِي الصَّدَقْتِ وَاللهُ لاَ يُحِبُّ كُلُّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (البقرة : ۲۷۶ تا ۲۷۷) اللہ تعالٰی فرماتا ہے ہم نے سُود کے حرام ہونے کا حکم دیا ہے۔نادان کہتے ہیں سود اور خرید و فروخت میں کیا فرق ہے؟ وہ نہیں جانتے کہ ان میں اگر کوئی فرق نہ ہو اور دونوں ایک جیسے ہوں تو خدا ان میں سے ایک کو حرام اور ایک کو حلال کیوں قرار دیتا؟ اللہ کے حرام قرار دینے سے ہی ظاہر ہے کہ ان میں بہت بڑا فرق ہے۔پس یاد رکھو کہ جو لوگ اب سود سے باز آگئے وہ آگئے ورنہ جو باز نہ آئے وہ یاد رکھیں کہ وہ آگ یعنی لڑائی میں ڈالے جائیں گے۔اور اس و میں ہمیشہ رہیں گے یعنی اس کے اثرات ان میں ہمیشہ رہیں گے۔پھر خدا سود کو مٹائے گا اور صدقات کو بڑھائے گا۔یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ کوئی حکومت ایک لمبے عرصہ تک لڑائی جاری نہیں رکھ سکتی۔ایسی لمبی لڑائیاں جو قوموں کی قوموں کو پیس دیتی ہیں ، لاکھوں عورتوں کو بیوائیں اور کروڑوں بچوں کو یتیم کر دیتی ہیں ، وہ لڑائیاں جو لاکھوں بیٹوں کو تباہ اور لاکھوں باپوں کو ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا کرتی ہیں، وہ تب ہی جاری رہ سکتی ہیں جب کہ سود کے ذریعہ مالی حالت کو قائم رکھا