انوارالعلوم (جلد 4) — Page 517
انوار العلوم جلد ۴ ۵۱۷ خطاب جلسہ سالانہ کے ۱۲ کمبر ۱۹۱۹ء لوگوں کے پاس روپیہ جمع ہو جاوے اور باقی بھوکے مرتے رہیں۔بلکہ چاہتا ہے کہ سب کو برابر کا موقع ملے تمدن قائم ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سُود کے لین دین کو بند کیا جائے۔ہمارے زمیندار بھائی شاید خیال کرتے ہوں گے کہ تاجر لوگ سُود لیتے ہوں گے زمیندار ایسا نہیں کرتے وہ تو ہمیشہ سے سود دینے کے ہی عادی چلے آئے ہیں لیکن یہ درست نہیں۔میندارہ بینکوں نے زمینداروں کو بھی سود خور بنا دیا ہے۔اس کا نام بدل دیا گیا ہے اور لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے کہ یہ سود نہیں ہے۔ورنہ ہے یہ بھی سود ہی۔خواہ اس کا نام زمینداره بینک رکھ لو یا سرکاری بینک یا بہی کھاتہ۔کچھ ہو یہ سب سو رہی ہے۔سود لینے سے اب تک مسلمان جو کچھ نقصان اٹھا سود لینے کے نقصانات مسلمانوں کو چکے ہیں وہ پوشیدہ نہیں۔ان کی زمینیں اور جائدادیں چھن کر دوسروں کے پاس چلی گئیں اور وہ قلاش ہو گئے۔یہ تو عوام کا حال ہے۔مسلمانوں کی جس قدر سلطنتیں مٹیں ان کی ہلاکت کی وجہ بھی یہی ہوئی۔ترکوں نے جب دوسری سلطنت سے قرض لیا تو قرض دینے والوں نے کہا کہ فلاں علاقہ کے انتظام میں ہمارا دخل ہونا چاہئے۔اور وہ دخل ایسا ہوا کہ سب کچھ جاتا رہا۔اودھ والوں کا معاملہ اس کے الٹ ہے۔انہوں نے کسی کو سود دیا نہیں بلکہ خود لینا چاہا۔اور بہت سا روپیہ بینکوں میں جمع کرا دیا۔اسی روپیہ کی وجہ سے انہیں تباہ ہونا پڑا۔تو سیاسی طور پر سُود کا لینا دینا مسلمانوں کے حق میں سخت نقصان دہ ثابت ہوا۔کیونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے صریح حکم کے خلاف کیا۔مسلمانوں کو نقصان اس لئے پہنچا ہے کہ ان کا خاص فرض تھا کہ اس سے بچتے اور جب نہ بچے تو دوسروں کی نسبت زیادہ سزا کے نیچے آئے۔مگر یہ طبعی طور پر یورپ کے لئے بھی مضر ثابت ہو رہا ہے وجہ شود کے نقصان یورپ کو یہ کہ یورپ کی تمدنی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ امراء اور غرباء کا مقابلہ ہو رہا ہے۔اسلام میں تو امیر اور غریب بھائی بھائی سمجھے جاتے ہیں۔لیکن وہاں امیر اور آدم کی اولاد اور غریب اور آدم کی اولاد قرار دیئے جاتے ہیں۔اس لئے ان کا آپس میں مقابلہ ہو رہا ہے۔ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔جس کا بس چلتا ہے دو سرے کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتا۔اس کی بڑی وجہ یہی سود ہے کیونکہ سود کے ذریعہ امراء روپیہ حاصل کر کے ہر قسم کی تجارت اور حرفت اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں اور کام