انوارالعلوم (جلد 4) — Page 516
انوار العلوم جلد ۴ ۵۱۶ خطاب جلسه سالانه ۴۷ - دسمبر ۱۹۱۹ء وقت زیادہ گزر گیا ہے اس لئے مختصر ہی بیان کرتا ہوں۔ سود کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسلام نے اس سے روک کر مسلمانوں کو ترقی کرنے سے روک دیا ہے۔ کہتے ہیں سود کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور بد قسمتی سے اکثر مسلمانوں کی بھی یہی رائے ہے۔ اور اسی وجہ سے بعض نے لوگوں سے ڈر کر سود کے معنی اور اور سود کے جواز کے حیلے کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں اسلام میں اس طرح کا سود لینے کی ممانعت آئی ہے کہ نئو دے کر دو سو لیا جائے ۔ معمولی سود لینے کی ممانعت نہیں ہے کیونکہ یہ سود نہیں بلکہ منافع ہے ۔ ان لوگوں کی مثال اس شخص کی ہے جس سے کسی نے پوچھا تھا کہ تمہارا کوئی لڑکا بھی ہے ؟ اس نے کہا کوئی نہیں۔ لیکن جب وہ چلا تو چار لڑکے اس کے لمبے کرتے کے نیچے سے نکل پڑے۔ پوچھنے والے نے کہا تم تو کہتے تھے میرا کوئی بچہ نہیں۔ یہ چار کس کے بچے ہیں ؟ اس نے کہا چار بچے بھی کوئی بچے ہوتے ہیں؟ یہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ سات فیصدی بھی کوئی سود ہے؟ بعض دوسروں نے یہ فتوی دے کر کہ غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے ایک اور راہ نکالی ہے۔ پھر بعض نے یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ غیر مذہب کی حکومتوں کے ماتحت جو مسلمان ہیں ان سے بھی سود لینا جائز ہے۔ اب مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد تو غیر مذاہب ہی کی حکومتوں کے ماتحت ہے۔ ان کے لئے جو از نکل آیا۔ پھر اسی پر بس نہ کی گئی بلکہ یہ کہدیا گیا کہ سود وہ ہوتا ہے جو بہت بڑی تعداد میں لیا جائے ۔ اب کسی کے لئے بھی روک باقی نہ رہی۔ حالانکہ بائبل اور قرآن کریم کی تعلیم میں یہی فرق ہے کہ توریت میں کہا گیا ہے کہ تو اپنے بھائی سے سود نہ لے۔ لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تو کسی سے بھی سود نہ لے۔ کیونکہ آپ نے سود لینے کے متعلق کوئی شرط نہیں لگائی ۔ اور یہاں تک فرما دیا ہے کہ سود لینے اور دینے والا اور اس پر گواہی ڈالنے والا سب جہنم میں ہوں گے ۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۸۱ (۳۸۱) اور قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو سود لینے سے نہیں رکھتا وہ ہم سے لڑنے کے لئے تیار ہو جائے ۔ مگر باوجود اس کے لوگوں نے کوئی خیال نہیں کیا اور دشمنان اسلام کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ اسلام کی تعلیم بھی ہر زمانہ کے لئے قابل عمل نہیں ہے۔ کاش! یہ لوگ ہوش کرتے اور اپنی بداعمالیوں سے اسلام کو تو بد نام نہ کرتے۔ در حقیقت سود سے روکنا اسلام کے اعلیٰ ترین احکام میں سے ہے۔ اسلام نہیں چاہتا کچھ