انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 501

لوم جلد ۴ ۵۰۱ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ - و مگر عبودیت کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا عبد رہی ہو سکتا عبد بننے کے دو فرض ہے جو دو فرض ادا کرے۔اول فرض یہ ہے کہ جو کام اس کے ذمہ لگائے گئے ہیں ان کو بجالائے۔یا جن کاموں کے کرنے سے اسے روکا گیا ہے اس سے بچے۔دوسرا فرض یہ ہے کہ اپنے آقا کے جو دوسرے عبد ہیں ان کو بھی ان کاموں کی طرف توجہ دلائے۔جب کوئی شخص ان دونوں فرضوں کو بجالاتا ہے تو پھر وہ عہد ہو جاتا ہے اور فَادْخُلِی فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِنہ کا مستحق ہو جاتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری جماعت کو اس کی توفیق دی ہوئی ہے کہ وہ کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ خدا تعالٰی کے عبد بنیں۔مگر باوجود اس کے میں کہتا ہوں جس کا انہوں نے عبد بننا ہے اس کی چونکہ بہت بڑی شان ہے۔اور اس کے جتنے اعلیٰ درجہ کے عبد بنتے جاؤ اس کی اور زیادہ شان ظاہر ہوتی جاتی ہے اور عبودیت کے اور راستے کھلتے جاتے ہیں۔حتی کہ رسول کریم ال جیسا انسان جو کہتا ہے کہ میری نمازیں ، میری قربانیاں، میری زندگی اور میری موت سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہے وہ بھی کی عبودیت میں آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے۔پس تم لوگوں کو بھی اپنی کوشش اور سعی میں ہر وقت لگے رہنا چاہئے۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالٰی کا عبد بنا کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا بہت بڑا مرتبہ ہے۔اور انسان عبودیت میں جتنی کوشش کرے اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔پس آپ لوگ جو کوشش کرتے ہیں۔اس میں اور بہت زیادہ زیادتی کی ضرورت ہے۔اور میں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالٰی کا عبد بننے کے لئے اپنی کوششوں کو اور زیادہ بڑھاؤ۔اور یاد رکھو کہ انسان جب تک اپنے آپ کو فنا نہیں کر دیتا خدا تعالیٰ کا عبد نہیں بن سکتا۔اور جب وہ عبد بن جاتا ہے تو پھر کوئی اسے فنا نہیں کر سکتا۔میں اس موقع پر آپ لوگوں کو خدا کے ایک عبد کا واقعہ سناتا ہوں خدا کے عبد کی شان جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا کا عبد کس شان کا آدمی ہوتا ہے۔لکھا ہے کہ رسول کریم کے مدینہ تشریف لے جانے پر یہود نے آپ کی روز مرہ ترقی کو دیکھ کر آپ کے خلاف کسری کو اکسایا۔اور کہلا بھیجا کہ اس شخص کی بڑھتی ہوئی طاقت سے آپ کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔اس نے بلا تحقیق یمن کے گورنر کے نام خط لکھ بھیجا کہ میں نے سنا ہے ایک ایسا ایسا شخص ہے تم اس حکم کے پہنچتے ہی اسے گرفتار کر کے میرے پاس بھیج در حجاز کا علاقہ کسریٰ کی حکومت میں نہ تھا مگر یمن پر اس کی حکومت تھی۔اور اس کے اقتدار