انوارالعلوم (جلد 4) — Page 480
م خطاب جلسہ سالانہ کے آر نمبر ۱۹۱۹ء اس کے بعد میں جماعتوں کی خدمات کا اعتراف کرتا بیرونی احمدی جماعتوں کی خدمات ہوں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ صرف لفظی اعتراف کرتا ہوں بلکہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں ان کے کام سے ناواقف نہیں ہوں بلکہ آگاہ ہوں اور ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔کیونکہ جو کام وہ کر رہے ہیں وہ میرا کام کر رہے ہیں۔میں ان کو بتاتا ہوں کہ ان کی خدمتیں میرے دل پر نقش ہیں اور ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔کیونکہ یہی میرے پاس اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ ہے جو میں انہیں دے سکتا ہوں۔اور خصوصاً ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے لئے دعا کرتا ہوں کیونکہ وہ بہت سی مشکلات اور مصائب میں سے گزر رہی ہیں۔سیلون میں بہت تحط پڑا ہوا ہے اور یہاں تک حالت ہو گئی ہے کہ جماعت احمدیہ سیلون میں نے اخبار میں پڑھا ایک شخص کا بچہ بھو کا مر رہا تھا۔وہ صبح سے لے کر شام تک سرکاری دکان پر کھانا خریدنے کے لئے کھڑا رہا۔لیکن بھیڑ اس قدر تھی کہ اسے نہ مل سکا۔اور وہ خالی ہاتھ واپس چلا آیا۔مگر وہاں کی جماعت ایسے نازک وقت میں بھی جس جوش اور اخلاص سے کام کر رہی ہے وہ بہت ہی قابل تعریف ہے۔دیکھو یہاں لاکھوں کی جماعت میں چار پانچ اخباروں اور رسالوں کا چلنا مشکل ہو رہا ہے۔مگر سیلون کی مٹھی بھر جماعت نے ایک انگریزی اخبار جاری کیا ہوا ہے اور اپنا پریس بھی چلایا ہوا ہے۔اس کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہاں کی جماعت کے لوگ سارا دن تو اپنے کام کاج میں مشغول رہتے ہیں۔لیکن رات کو اکٹھے ہو کر پریس کا کام کرتے ہیں۔کوئی ایڈیٹری کا کام کرتا ہے، کوئی کمپوزیٹری کرتا ہے کوئی پریس چلاتا ہے۔اس طرح کام کر کے وہ اخبار چلا رہے ہیں۔اور ایسے قحط کے زمانہ میں چلا رہے ہیں کہ لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں۔اس پریس اور اخبار کے بعض کارکنوں کو بھی بعض دفعہ فاقے کرنے پڑتے ہیں مگر وہ کام نہیں چھوڑتے۔یہ ان کا دین کے ساتھ اخلاص اور محبت ہے۔حالانکہ وہ ایسی جگہ کے رہنے والے ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات صادر نہیں ہوئے۔ایمان کو تازہ کرنے والی حضرت مسیح موعود کی باتیں انہوں نے نہیں سنیں۔آپ کی تحریریں انہوں نے نہیں پڑھیں ، کیونکہ وہاں کی زبان اردو نہیں۔کبھی یہاں نہیں آئے مگر خدمت دین میں وہ ایسا نمونہ دکھلا رہے ہیں کہ ہمارے لئے قابل رشک ہے۔اور یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ ایسی مضبوط