انوارالعلوم (جلد 4) — Page 475
دم جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ کے او کمبر ۱۹۱۹ تو اس کے علاوہ بیت المال کا کام ہے اور سب کام کرنے والوں سے زیادہ صیغہ بیت المال ناظر بیت المال کی میں تعریف کروں گا۔آپ لوگوں کو یاد ہو گا گزشتہ سال جلسہ پر میں نے کہا تھا کہ آپ لوگ کیوں اس بوجھ کو میرے پر سے دور نہیں کرتے کہ صیغے کے افسر مجھے آکر کہتے ہیں کہ اتنے روپے کی ضرورت ہے اس کا کیا انتظام کیا جائے۔اس وقت میں خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہوئے کہ میری تعریف کا ناظر بیت المال پر عجب اور تکبر کا کوئی اثر نہ پڑے میں تعریف کرتا ہوں کہ بیت المال کے صیغہ کے متعلق یا تو روزانہ مجھے فکر لگی رہتی ہے تھی کہ فلاں بل کہاں سے ادا ہو اور فلاں کہاں سے۔مگر اس تحریک کے بعد جو میں نے آپ لوگوں کو کی اور ناظر بیت المال کی اس کے متعلق ذمہ داری اٹھانے کے بعد اس صیغہ نے ایسی ترقی کی کہ میں کہہ سکتا ہوں معجزانہ ہے۔ستراتی ہزار روپیہ کی آمدنی کے مقابلہ میں دو لاکھ کی آمدنی ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اور میں سمجھتا ہوں جو جماعت اپنے امام کے مونہہ سے اتنی بات سن کر اتنا بڑا بوجھ اٹھا سکتی ہے وہ بہت بڑی ترقی کا بیج اپنے اندر رکھتی ہے اور بہت جلد ترقی کر سکتی ہے بشرطیکہ اس سے کوئی کام لے۔ناظر بیت المال کی محنت کے بدلہ میں میں یہ پسند نہیں کروں گا کہ آج کل کے دستور کے مطابق تالیاں پیٹ دی جاویں یا واہ واہ کر دی جاوے کیونکہ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے فائدہ نہ ہو۔پس میں کام کرنے والے کو جزاک اللہ کہتا ہوں اور اس کے لئے دعا کرتا ہوں۔اور احباب سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کے اخلاص اور ایمان کی ترقی کے لئے دعا کریں۔باقی محکموں نے بھی اس سال اچھے کام کئے ہیں مگر چونکہ یہ نئے نئے تھے اور بیت المال کا صیغہ پرانا تھا۔اس لئے دوسرے محکموں والے پورے طور پر کام نہیں کر سکے۔مگر میں سمجھتا ہوں آئندہ وہ بہت عمدہ اور اچھی طرح کام کریں گے۔میں نے ابھی کہا تھا کہ ان کے کاموں میں جماعت کے ہر فرد کا دخل ہے اور خصوصیت سے قادیان والوں کا۔یہ چار پانچ شخص کچھ نہیں کر سکتے تھے۔اگر قادیان کے چھوٹے بڑے ان کی امداد نہ کرتے اور ساری جماعت ان کے کاموں میں شامل نہ ہوتی۔پس میں جہاں ان کے لئے دعا کی تحریک کرتا ہوں وہاں ان تمام لوگوں کے لئے بھی کرتا ہوں جنہوں نے ان کا ہاتھ بٹایا اور ان کی امداد کی ہے۔خدا تعالیٰ ان کی جانوں مالوں اور خدمت گزاری میں برکت دے۔