انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 456

انوار العلوم لم ۴۵۶ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی۔تو امید کی جاتی تھی کہ انگریزی فوج کو سخت نقصان پہنچا مگر بادشاہ کی بیگم جو در پردہ انگریزوں کی ہم خیال اور ان سے متفق تھی۔کیونکہ اس کو امید تھی کہ جو تغیر ہو گا وہ اس کے بیٹے کے لئے مفید ہو گا جب توپ خانہ وہاں رکھا گیا تو بیگم نے کہا مجھے غشی آنے لگی ہے گولہ باری نہ کرو۔بادشاہ خود اس کے پاس گیا اور کہا کہ یہ وقت نہایت نازک ہے ہمارے افسر کہتے ہیں کہ یہ ایسا عمده موقع گولہ باری کے لئے ہے کہ ہمیں یقینا فتح ہو گی۔بادشاہ کی بیگم چونکہ دل میں اور ارادہ رکھتی تھی اس نے بادشاہ سے کہا کہ اچھا گولہ باری ہو مگر پہلے آپ اپنے ہاتھ سے مجھے قتل کر دیں۔بادشاہ اس جذبہ محبت سے مغلوب ہو گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خاندان ہمیشہ کے لئے مٹ گیا تو جذبات کا اثر علم پر تجربہ پر سب پر غالب آتا ہے اور اگر دنیا میں دیکھا جائے تو کثیر حصہ گناہوں کا محض جذبات کے ماتحت ہی ہوتا ہے مثلاً شہوت سے تعلق رکھنے والے گناہ یا رشوت ستانی وغیرہ تمام جذبات کے ماتحت ہوتے ہیں۔ایک شخص جانتا ہے کہ رشوت بری چیز ہے لیکن وہ دیکھتا ہے کہ بیوی کی پرورش میرے ذمہ ہے اور میرے بچے اس سے پرورش پائیں گے۔پس یہ جذبہ غالب آتا ہے اور اس کے اس علم پر پردہ پڑ جاتا ہے جو اس کو رشوت کی برائی تعلقات کا اثر کے متعلق ہوتا ہے۔اس طرح فیلنگز (جذبات) علم اور تجربہ پر غالب آجاتے ہیں۔دوسری بات تعلقات اور علاقے ہوتے ہیں جن کا اثر انسان پر پڑتا ہے اور ان علاقوں کا اثر در حقیقت عادت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ایک انسان جب وطن سے دور ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ عادات جو اس کو پڑی ہوئی تھیں فراموش ہوتی جاتی ہیں لیکن جب وہ واپس اپنے وطن کی طرف آتا ہے تو ان گلیوں کو دیکھ کر جن میں وہ پھرتا تھا اور ان آدمیوں کو دیکھ کر جن میں وہ رہتا تھا طبیعت خود بخود ان عادات کی طرف لوٹتی ہے جن میں وہ اس وقت مبتلا تھا جس وقت ان گلیوں اور ان آدمیوں کے ساتھ اس کا تعلق تھا چنانچہ خواہ کتنا عرصہ ایک انسان اپنے وطن سے دور رہا ہو جس وقت اپنا وطنی آدمی اسے مدت کے بعد نظر آوے تو بے اختیار اسے اپنی زبان یاد آجاوے گی۔اگر وہ مہمان ہے تو ویسے کھانے تیار کرا کے اسے کھلائے گا کیونکہ عادات اس تحریک سے پھر آگے آجاویں گی۔تو ایک چیز کو دیکھ کر جس سے انسان وابستہ رہا ہو پرانی آرزو کیں اور تمنا ئیں اور عادتیں اور جذبات عود کر آتے ہیں۔پس آپ کے لئے اصل فیصلہ کا وقت یہی ہے جب آپ ہندوستان میں آگئے ہیں۔مجھے تو اب معلوم ہوا ہے کہ آپ کے والد صاحب زندہ ہیں وہ بھی آپ کے لئے ایک کشش ہیں ان پر انے