انوارالعلوم (جلد 4) — Page 440
۴۴۰ ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض چاہئے۔بے شک برطانیہ نے بعض اقوام سے ترکوں کے بعض علاقوں کے متعلق ایسے معاہدات کئے ہیں کہ وہ ان حکومتوں کے زیر حفاظت رکھے جاویں گے۔مگر جب کہ ان علاقہ جات کے باشندے خود اس امر کو پسند نہ کرتے ہوں اور جب کہ اس امر کا فیصلہ کر دیا گیا ہو کہ کسی ملک کے انتظام میں اس کے باشندوں کی آراء کا بھی ایسے حالات میں کہ کسی قسم کے ظلم کا خطرہ نہ ہو خیال رکھا جاوے گا کوئی وجہ نہیں کہ ان کو دوسری حکومتوں کے سپرد کر دیا جاوے۔جن کے نیچے رہنا ان کو نہ صرف ناپسند ہی ہے، بلکہ خطرہ ہے کہ ان کے مذہبی احساسات کو بھی اس طرح صدمہ پہنچے۔یورپ بے شک تعلیم ظاہری میں بڑھا ہوا ہے مگر سب یورپ انگریزوں کی طرح مذہبی آزادی کے اصول پر قائم نہیں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بعض یوروپین اقوام نے جبر مذ ہب میں دخل دیا ہے اور زبردستی عقائد میں تبدیلی کروانی چاہی ہے۔طرابلس اور حرب بلقان کے واقعات جو خود انگریز نامہ نگاروں نے لکھے ہیں دلالت کرتے ہیں کہ برطانیہ عظمیٰ کو تمام اہل یورپ کو اپنے جیسا مہذب خیال نہیں کرنا چاہئے۔غرض دلائل اور براہین سے برطانیہ عظمی کے اصحاب حل و عقد کو سمجھانا چاہئے کہ اس بارہ میں مسلمانوں کے خیالات حق پر مبنی ہیں اور انگلستان کی عام رائے کو اصل حالات سے واقف کرنا چاہئے۔اور برطانیہ کی قدیم انصاف پسندی کو دیکھتے ہوئے یقین رکھنا چاہئے کہ برطانیہ اپنی طاقت کے مطابق مسلمانوں کے احساسات کا خیال رکھنے میں کو تاہی نہیں کرے گا۔اور ایسے امور سے بکی پر ہیز کیا جاوے جن سے عوام میں کوئی غلط فہمی پیدا ہو یا نا مناسب جوش پیدا ہو۔کیونکہ اس صورت میں حکام کی توجہ زیادہ تر اندرونی انتظام کی طرف مبذول ہو جاوے گی۔اور اگر ایسے حالات میں وہ مسلمانوں کے احساسات کی تصویر پورے طور پر ان لوگوں کے سامنے نہ کھینچ سکیں جو اس وقت ترکی حکومت کے مستقبل پر غور کرنے کے لئے بیٹھے ہیں تو اس کا الزام خود مسلمانوں پر ہو گا نہ کسی اور پر۔میرے نزدیک مناسب ہے کہ جہاں اس امر پر زور دیا جاوے کہ برطانیہ مسلمانوں کے خیالات کی پہلے سے زیادہ تائید کرے وہاں عامتہ الناس کو اس امر سے بھی واقف کیا جاوے کی کہ برطانیہ اب تک بہت کچھ کوشش کر چکا ہے اور کوشش کر رہا ہے جیسا کہ حکومت حجاز کی گواہی سے صاف طور پر عیاں ہے۔دوسرا امر اس کوشش کو کامیاب بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مسلمان حکومت حجاز کا سوال بیچ میں سے بالکل اٹھا دیں۔عربوں نے غیر اقوام کی حکومتوں کے ماتحت اپنی زبان اور