انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 426

انوار العلوم جلد ۴ ۴۲۶ خطاب جلسہ سالانہ ۷ ۱ مارچ ۱۹۱۹ء بھی حاصل نہیں۔ کیونکہ تم ہمیشہ کے لئے دنیا کو روشن کرنے کا باعث بنو گے اور حقیقت اور صداقت تمہارے ذریعہ قائم ہوگی۔ آج تم دنیا کے سامنے جو بات پیش کرتے ہو۔ اس کی تم سے سند طلب کی جاتی ہے۔ لیکن ایک زمانہ آئیگا جب کہ قرآن اور حدیث اور تحریرات حضرت مسیح موعود کے بعد تمہارے قول پیش کئے اور مانے جائیں گے۔ پس خوب اچھی طرح یاد رکھو کہ اسوقت جو کوششیں اور قربانیاں تم کرو گے ۔ وہ بے فائدہ نہیں جائیں گی بلکہ بڑے بڑے عظیم الشان نتائج پیدا کریں گی۔ ہاں کرنی ضرور پڑیں گی اور جو کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا وہ پیچھے ہٹا دیا جاوے گا۔ اور جو ٹھہر جائے گا وہ گرے گا اور گر گر کر پیس جائیگا۔ اس لئے اب سلامت وہی رہ سکے گا جو خدا کی طرف بڑھ بڑھ کر قدم مارے گا اور آگے ہی آگے چلے گا۔ اور جو کھڑا ہونا چاہے گا وہ کھڑا نہیں ہو سکے گا بلکہ مونہہ کے بل گر پڑے گا۔ پس آپ لوگوں کو بالکل تیار ہو جانا چاہئے۔ کیونکہ دراصل وسیع کام کا زمانہ اب آیا ہے۔ اور اب کے اب آیا ہے۔ اور اب کام اتنا وسیع ہو گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔ ۔ اس کے علاوہ میں اس بات کی طرف بھی توجہ دعوت الی اللہ ہر احمدی کا فرض ہے دلانا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کا ذاتی طور پر بھی فرض ہے کہ تبلیغ کریں۔ میرے نزدیک اگر کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ تبلیغ کے لئے کھڑا ہو جائے۔ تو اسے ضرور توفیق مل جاتی ہے اور کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ کچھ عرصہ کی بات ہے میں نے ایک نکاح پڑھا جس کا مہر دس ہزار مقرر ہوا۔ نکاح پڑھوانے والے نے سمجھا کہ مہر رواج کے طور پر ہے۔ کس نے لینا اور کس نے دیتا ہے۔ لیکن میں نے اسے کہا کہ اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔ تمہیں ضرور ادا کرنا چاہئے۔ اس پر اس نے کہا کہ میں نے ادا کرنے کی نیت کر لی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر تم نے نیت کرلی ہے تو خدا ادا کرنے کی ضرور توفیق دے گا۔ چنانچہ اس کے بعد پچیس تیس ہزار کی جائیداد اسے گورنمنٹ کی طرف سے مل گئی۔ تو جس بات کی نیت خدا کے لئے کر لی جائے اس کے کرنے کی خدا تعالی توفیق عطا کر دیتا ہے۔ پس اگر ہر ایک احمدی نیت کرلے کہ اگلے سال تک کم از کم از کم ایک احمدی احمدی بنانا ہے۔ اور اس اس پر پختہ پختہ طور سے قائم رہے تو ضرور اسے کامیابی ہو گی۔ کیونکہ نیتوں کے پھل خدا تعالی ضرور دیتا ہے۔ پس تم میں سے کوئی یہ مت سمجھے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ تم اپنے آپ کو کمزور مت سمجھو۔ بے شک تم کمزور ہو مگر یہ بھی تو خیال کرو کہ تم وہ ہو جنہوں نے حق قبول کیا ہے۔ اور تمہارے بالمقابل