انوارالعلوم (جلد 4) — Page 427
۴۲۷ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء وہ ہیں جو حق سے بالکل بے علم اور انجان ہیں۔پس اگر تم کم علم ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ جن کو تمہیں پڑھانا ہے وہ تمہارے مقابلہ میں عشر عشیر بھی نہیں جانتے۔اور پھر تمہیں ایک ایک جلسہ پر اتنا علم دید یا جاتا ہے کہ ہمارے مخالفین مولوی پندرہ بیس سال کیا ساری عمر میں بھی نہیں دے سکتے۔اور انہوں نے دینا بھی کیا ہے۔ان کے پاس کچھ ہے ہی نہیں۔جو کچھ ہم بیان کرتے ہیں وہ اس کا عشر عشیر بھی بیان نہیں کر سکتے۔وجہ یہ کہ ہم وہ بیان کرتے ہیں جو خدا تعالٰی ہمیں سکھاتا ہے۔لیکن وہ دوسروں کے اترے ہوئے پیراہن پہن کے کھڑے ہوئے ہیں۔پس کسی کی طاقت نہیں ہے کہ ہمارے علوم کا مقابلہ کر سکے لیکن اس میں ہماری کوئی خوبی نہیں ہم تو خدا تعالیٰ کے خاکسار بندے ہیں ہمیں جو کچھ دیا گیا ہے وہ اس نے اپنے فضل سے دیا ہے۔پس جب ہم پر اس قدر خدا کا فضل ہے اور اس فضل سے ہر ایک احمدی کو حصہ دیا جاتا ہے تو پھر ہر ایک کا فرض ہے کہ تبلیغ کے فرض کو ادا کرے۔کیا ہم نے حق کو قبول نہیں کیا۔کیا صداقت ہمارے پاس نہیں ہے۔کیا مخالفین کے جھوٹے ہونے کے ہمارے پاس دلائل نہیں ہیں۔اگر یہ سب تو کچھ ہے تو پھر ہمارا چھوٹے سے چھوٹا آدمی انکے مولوی پر بھاری ہے کیونکہ اس کے ساتھ خدا ہے۔اور کون ہے جو خدا کا بوجھ اٹھا سکے۔پس تم کوئی نکمی اور بے کارے نہیں ہو۔تم کوئی کوڑا کرکٹ نہیں ہو۔خدا نے تو ہمیں یہ بتایا ہے کہ دنیا کی ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز کام کی ہے اور تم تو وہ ہو جو سلسلہ کی بنیاد ہو۔اور خدا نے تمہارے ذریعہ اپنا جلال ظاہر کرتا ہے۔اگر تم کسی کام کے نہیں ہو تم میں زندگی کی روح نہیں ہے تو کیا خدا مردوں کے ذریعہ اپنا جلال ظاہر کرنا چاہتا ہے۔نہیں تم میں بہت کچھ ہے اور تم بہت کچھ کر سکتے ہو۔اس لئے اگر تم ایمان کی طاقت لے کر کھڑے ہو جاؤ تو پھر کوئی مولوی بھی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔میں نے تو تجربہ کیا ہے کہ وقت پر خدا تعالیٰ ایسے علوم عطا کر دیتا ہے جو پہلے نہیں آتے۔اور ایسے دریا بہا دیتا ہے کہ اس علم کے بڑے بڑے عالم بھی حیران رہ جاتے ہیں۔پس اگر ہر سال ہر ایک احمدی یہ نیت کرلے کہ کم از کم ایک شخص کو ہدایت کی طرف لانے کی کوشش کروں گا۔تو خدا تعالیٰ بہت سے لوگوں کو اس میں کامیاب ہونے کی توفیق دے گا اور جن کی نیت زیادہ خالص ہوگی انہیں اور بھی زیادہ کامیاب کرے گا۔پس چاہئے کہ ہر ایک احمدی پہلے دعا اور استخارہ کرے کہ یا اللہ ! فلاں فلاں شخص کو میں سمجھانے کی نیت کرتا ہوں تو مجھے اس کے سمجھانے اور اسے حق کے قبول کرنے کی توفیق دے۔اس کے بعد تبلیغ شروع کر دے۔