انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 398

دم جلد۔خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء کے مقابلہ میں ان کا مفہوم اقرب رکھا گیا ہے۔اور وہ آسانی سے سمجھے جا سکتے ہیں۔ان کے بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جذبات کو ابھارنے والے دلائل اور باتیں زیادہ اثر کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں بھی جذبات کو ابھارنے والے دلائل زیادہ ہیں۔تو ہمارا فرض ہے کہ وہ نادرست اور غلط باتیں جو لوگوں کے جذبات پر زیادہ اور برا اثر کرتی ہیں ان کو معمولی نہ سمجھیں اور ان کا پورا جواب دیں۔اسی طرح جماعت کے کئی اور کام ہیں جن کو ایک انتظام کے ماتحت لانا صیغہ بیت المال ضروری ہے۔فی الحال میں نے اس کے لئے چار صیغے مقرر کئے ہیں۔جن میں سے ایک بیت المال کا صیغہ ہے۔جس کا یہ فرض ہو گا کہ ان کاموں کے علاوہ جن کا تعلق صدر انجمن سے ہے باقی تمام کاموں کے لئے جس قدر روپیہ کی ضرورت پیش آئے اسے مہیا کرے۔اس سے پہلے ہمارے روپیہ کا حساب و کتاب رکھنے والے افسروں کا یہ کام ہو تا تھا کہ جو کچھ کوئی دے جائے یا بھیج دے وہ لے لیں۔لیکن جن لوگوں نے کوئی خاص کام کرنا ہو ان کے خزانے دو سروں کی رائے پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ان کے کارکنوں کا فرض ہے کہ ضرورت کے مطابق روپیہ بہم پہنچا ئیں۔البتہ ایسی حکمت اور ترکیب سے وصول کریں کہ افراد تباہ و برباد نہ ہوں۔کیونکہ جماعتیں افراد سے ہی بنتی ہیں۔اور وہ حکومتیں جو افراد کو برباد کر دیتی ہیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔تو ہماری جماعت کے انتظام اور ضروریات کے پورا کرنے کے لئے یہی ضروری نہیں کہ جو کچھ کوئی دے دے اس کو سنبھال لیں۔بلکہ جو ضرورت ہو اس کے لئے انتظام کریں اس لئے اس کے لئے خاص محکمہ قائم کیا گیا ہے۔جس کا فرض ہو گا کہ جس طرح ہو سکے ضروریات کو پورا کرنے کے لئے روپیہ مہیا کرے۔اور علاوہ ماہوار چندوں کے جو صورتیں بھی روپیہ فراہم کرنے کی ہوں ان کو کام میں لائے۔صیغه تألیف و اشاعت دو سرا صیغہ تالیف و اشاعت کا بنایا گیا ہے۔یعنی ایک آفیسر ایسا مقرر کیا گیا ہے جس کی ذمہ داری ہوگی کہ جس قدر سلسلہ کے خلاف مضامین اردو، انگریزی، عربی، فارسی، پشتو و غیرہ زبانوں میں شائع ہوں انکو جمع کرے۔اور ان میں سے جن کے متعلق ذرا بھی سمجھا جائے کہ کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث ہیں ان کا فوراً جواب شائع کرائے۔یہ جواب خواہ رسالوں اور اخباروں کے ذریعہ ہو۔یا ٹریکٹوں اور کتابوں کے ذریعہ۔لیکن ہونا ضرور چاہئے۔پس ہمارے خلاف خواہ ان میں سے کوئی لکھے جو غیر مبائع