انوارالعلوم (جلد 4) — Page 399
م جلد ✔ ۳۹۹ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء ہیں خواہ ان میں سے لکھے۔جو غیر احمدی ہوں خواہ ان میں سے لکھے جو اسلام سے باہر ہیں اس کا ضرور جواب شائع ہو۔پھر رسول کریم اور اسلام پر دیگر مذاہب کی طرف سے جو اعتراض کئے جائیں ان کا جواب دینا بھی ہمارا فرض ہے۔اور اس کے ساتھ ہی ہمارا یہ بھی کام ہے کہ وہ تجاویز سوچیں جن کے ذریعہ کسی مذہب کے لوگوں میں کامیابی کے ساتھ تبلیغ ہو سکتی ہے۔اس صیغہ کے افسر کے ذمہ یہ فرض ہو گا کہ وہ نہ صرف مخالفین کے اعتراضوں کے جواب لکھوائے اور شائع کرائے بلکہ یہ بھی دیکھے کہ عیسائیوں ، ہندوؤں، غیر احمدیوں اور غیر مبائعین میں تبلیغ کے لئے کونسے دلائل اور طریق زیادہ کارآمد اور مؤثر ہو سکتے ہیں۔اور وہ دلائل با قاعدہ طور پر مبلغین اور واعظوں کو سکھائے جائیں۔عیسائیوں نے اس طریق سے فائدہ اٹھایا۔انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمان حضرت عیسی کو زندہ آسمان پر مانتے ہیں تو انہوں نے عیسائیت کی برتری جتانے کے لئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تمہارا رسول فوت ہو چکا اور حضرت عیسی زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔پھر ان کی فضیلت مانے میں تمہیں کیوں انکار ہے۔اس سے بہت سے مسلمانوں کو ٹھوکر لگ گئی اور وہ عیسائیت میں داخل ہو گئے۔پس جب باوجود حق پر نہ ہونے کے اصولی طور پر کام کرنے سے عیسائی فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو ہم حق پر ہو کر کیوں نہ ایسے اصول کے ماتحت کام کر کے جو مفید اثرات پیدا کر دیتے ہیں فائدہ اٹھا ئیں۔اس کے لئے ضرروی ہے کہ ہر مذہب میں تبلیغ کرنے کے لئے ان دلائل کو مرتب کیا جاوے جن کا کسی مذہب کے لوگوں پر زیادہ اثر ہو سکتا ہے۔اور ان کے ذریعہ آسانی سے وہ ہماری باتوں کو سمجھ سکتے ہوں۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک دلیل نهایت زیر دست ہو مگر اس کا بعض لوگوں پر زیادہ اثر نہ ہو۔اور ایک دوسری دلیل کم واضح ہو مگر ان لوگوں پر اس کا بہت اثر ہو۔اور چونکہ اصل غرض حق سمجھانے کی ہے۔اس لئے اسی طریق کو اختیار کرنا چاہئے۔جس سے لوگوں کی سمجھ میں حق آجاوے۔پھر اس کے علاوہ ایک اور بات کی طرف بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں ایک زمانہ تک تو ان مسائل کی بڑے زور و شور کے ساتھ تحقیق ہوتی رہی ہے۔جو ہمارے سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود نے جب دعوی کیا تو وفات مسیح کا سوال پیدا ہوا۔جس کے متعلق بہت سے دلائل تو حضرت مسیح موعود نے خود دیئے۔اور کچھ اور احمدیوں نے مہیا کئے۔مگر اس کے بعد کہ اٹھارہ میں سال ہو گئے ہیں کوئی دلائل نہیں نکالے گئے۔حالانکہ جب اس مسئلہ کے ذریعہ ہمارے سلسلہ کو بہت بڑا فائدہ پہنچا اور پہنچ رہا ہے