انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 14

لوم جلد ۴ تبلیغ کریں ۱۴ اطاعت از ریں اور اپنا ہم عقیدہ و ہم خیال بنانے کی کوشش کریں۔باقی سیاسی طور پر جو تکلیف یا ضرورت ہو اس کی طرف ادب اور تہذیب سے انہیں متوجہ کریں۔ہم پر اس حکومت کے بڑے بڑے احسان ہیں۔سکھوں کے زمانہ میں تو مسجدوں میں اذان دینے کی بھی اجازت نہ تھی۔ایک دفعہ ایک گائے کی قربانی کرنے کی وجہ سے سات ہزار آدمی مروائے گئے۔یہ اور اسی قسم کے اور بے شمار مظالم کئے جاتے تھے۔جن پر کوئی لمبا عرصہ نہیں گزرا اور اگر گزر بھی جائے تو کیا انہیں بھلا دینا چاہئے۔قرآن کریم حضرت موسیٰ ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم وغیرہ انبیاء کے واقعات پیش کرتا ہے۔اگر دور کے واقعات بھلا دینا جائز ہوتے تو ان کو نہ بیان کیا جاتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن کو گزشتہ واقعات بھلانے نہیں چاہئیں بلکہ ان سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔پس بڑے نادان ہیں وہ لوگ جو سکھوں کا عہد بھلا بیٹھے ہیں اور نہیں جانتے کہ اس وقت کیسے کیسے مظالم ہوتے تھے۔لاہور میں مسجدیں بند اور مولویوں کو قتل کیا جاتا تھا۔اگر مسلمان ان کو باتوں کو سوچیں تو خدا تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس نے ایسی حکومت بھیج دی ہے اور یہ حکومت کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایسی آزادی دے رکھی ہے اس قدر امن قائم کیا ہوا ہے۔اس قدر آرام و آسائش کے سامان بہم پہنچائے ہوئے ہیں۔نادان کہتے ہیں کہ ہم پر گو ر نمنٹ کے کیا احسان ہیں۔اپنی حکومت اچھی اور اعلیٰ طور پر کرنے کے لئے اس نے یہ سب کچھ کیا ہے۔ہم کہتے ہیں اگر اس طرح گورنمنٹ کا کوئی احسان نہیں رہتا تو پھر ماں باپ کا بھی اولاد پر کوئی احسان نہیں رہتا کیونکہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی شہوت رانی کی تھی اور میں پیدا وگیا۔پھر میں انہیں اچھا لگتا تھا اس لئے وہ مجھے پالتے رہے لیکن کیا کہنے والے کو کوئی عقلمند اچھا کہے گا نہیں بلکہ ملامت ہی کرے گا۔اس طرح گورنمنٹ نے جو رفاہ عام کے کام کئے ہیں ان سے اسے بھی فائدہ پہنچتا ہے لیکن چونکہ ہم بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس لئے ہم پر گورنمنٹ کا احسان ہے۔اور هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (ارمن : (1) اسلام احسان کا بدلہ احسان رکھتا ہے۔دراصل لوگوں نے احسان کے معنی نہیں سوچے اگر وہ ایسا کرتے تو یہ کبھی نہ کہتے کہ گورنمنٹ کے ہم پر کیا احسان ہیں کیونکہ اس طرح تو دنیا میں احسان کچھ رہتا ہی نہیں۔ایک ایسے شخص کو جو درد سے کراہ رہا ہو کوئی گھر لے آئے اور علاج و معالجہ کرے لیکن جب وہ اچھا ہو جائے تو کہے اس کا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے اس کا اپنا دل چاہتا تھا اسلئے مجھے اٹھا لایا میں نے تو اسے نہیں کہا تھا۔اسی