انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 384

انوار العلوم جلد ۴ ۳۸۳ عرفان الهی ہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔ کیونکہ وہ بجائے اس کے کہ غلطی بتانے والے کے ممنون ہوں۔ الٹے اس سے لڑتے ہیں۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ جس کسی میں غلطی یا نقص دیکھے بازار میں کھڑا ہو کر اسے تنبیہ کرنا شروع کر دے۔ سمجھانا ہمیشہ علیحدگی میں چاہئے۔ اور سمجھانے والے کو اپنی حیثیت اور قابلیت بھی دیکھنی چاہئے کہ وہ جس شخص کو سمجھانا چاہتا ہے اسے سمجھانے کی قابلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں تاکہ اس کا نتیجہ الٹا نہ نکلے۔ غرض جہاں یہ ضروری ہے کہ غلطی کرنے والوں کو برداشت کی طاقت پیدا کرنی چاہئے اور سمجھانے والے کی بات کو ٹھنڈے دل سے سننا چاہئے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ سمجھانے والا بھی بہت احتیاط سے کام لے۔ یہ نہ ہو کہ جس کو چاہے لوگوں میں ذلیل کرنا شروع کر دے ۔ یہ ہے کہ نا امید نہ ہو اور اللہ پر توکل ہو ۔ بعض ایسے ہوتے ہیں ۔ جو محنت دسویں بات کرتے کرتے ایسے موقع پر نا امید ہو کر ہٹ جاتے ہیں جب کہ انہیں محنت کا ثمرہ ملنے والا ہوتا ہے۔ ایک بزرگ کا واقعہ لکھتے ہیں کہ وہ ہر روز رات کو اٹھ کر بعض امور ایک بزرگ کا واقعہ کے متعلق دعا مانگا کرتے تھے ۔ اتفاقاً ایک دفعہ انکا ایک مرید ان سے ملنے کے لئے آیا اور تین چار دن ان کے پاس ٹھہرا۔ جس وقت وہ رات کو نماز کے لئے اٹھے اس کی بھی آنکھ کھل گئی۔ اور وہ بھی اپنے طور پر عبادت میں مشغول رہا۔ جب پیر صاحب دعا سے فارغ ہوئے تو ان کو ایک آواز آئی کہ تو خواہ کتنی ہی گریہ وزاری کر تیری دعا قبول نہ ہوگی۔ یہ آواز گوالهامی تھی مگر اس مرید کو بھی سنائی دی۔ مرید نے دل میں اس پر تعجب تو کیا مگر پیر کے پاس ادب سے خاموش رہا۔ دوسرے دن پھر اسی طرح وہ بزرگ اٹھے اور دعا میں مشغول ہوئے۔ اس دن بھی اس طرح آواز آئی اور مرید نے بھی سنی مگر پھر بھی خاموش رہا۔ تیسرے دن پھر وہ بزرگ اٹھے اور اسی طرح دعا و عبادت میں مشغول ہوئے۔ اور پھر وہی آواز آئی جو مرید نے بھی سنی تب اس سے نہ رہا گیا اور اس نے پیر صاحب سے کہا کہ ایک دن ہوا دو دن ہوئے ۔ تین دن سے آپ کو یہ آواز آرہی ہے۔ اور آپ بھی بس نہیں کرتے۔ اس پر وہ بزرگ بولے کہ نادان تو اتنی جلدی گھبرا گیا مجھے تو یہ آواز میں سال سے آرہی ہے مگر میں ستی نہیں کرتا۔ کیونکہ دعا عبادت ہے اور بندہ کا کام عبادت ہے۔ خدا تعالیٰ معبود ہے۔ اس کا کام دعا کو قبول کرنا یا رد کرنا ہے۔ وہ اپنا کام کر رہا ہے میں اپنا کام کر رہا ہوں۔ تو بیچ میں کون ہے