انوارالعلوم (جلد 4) — Page 373
ام جلد ۴ ۳۷۳ عرفان الهی ایک دن کے لئے عہد کرے۔اور اسی طرح عہد کرتا چلا جارے یہاں تک کہ نفس پر غلبہ : جاوے۔پس کسی معیوب عادت کو ترک کرنے کے لئے اس طرح اپنے نفس سے مقابلہ کرنا چاہئے نہ کہ یک دم سارا بوجھ ڈال دینا چاہئے۔اس طرح کامیابی مشکل ہوتی ہے آسانی سے کامیابی آہستہ آہستہ بڑھنے اور مزاولت اختیار کرنے سے ہو سکتی ہے۔پس ایک دفعہ اپنے نفس سے ایک اچھا عمل کراؤ اور دوسرے وقت پھر اسی پر اسے لگاؤ۔اور اسی طرح کئی بار کراؤ جس سے اسے عادت پڑ جائیگی۔انسان کا نفس در اصل بچہ کی طرح ہوتا ہے۔اس لئے اس سے بچوں والا معاملہ کرنا چاہے۔اور اسے روحانی تعلیم دینے کے لئے وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو سکولوں میں بچوں کو تعلیم دینے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے کہ پہلے انہیں چھوٹے سبق پڑھاتے ہیں اور آہستہ آہستہ زیادہ بڑھاتے جاتے ہیں۔حصول تزکیہ کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ تکرار کی جاوے یہ بھی قرآن کریم سے ثابت ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَامَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَامَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَاَحْسَنُوا والله يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (المائدة: (۹۴) کہ مؤمنوں پر گناہ نہیں ان چیزوں کے متعلق جو وہ کھاتے ہیں جب کہ وہ متقی ہوں اور ایمان لائیں اور عمل صالح کریں یعنی پہلے ایسا تقویٰ کریں جس کا نتیجہ ایمان اور اعمال صالحہ ہوں۔پھر تقویٰ کریں اور ایمان لائیں۔پھر تقویٰ کریں اور محسن ہو جائیں اور اللہ محسنین سے محبت رکھتا ہے۔اس آیت میں تین دفعہ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور تین ہی بار تقویٰ کے الگ الگ نتیجے بتائے ہیں۔پہلے تقویٰ کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ اس کے اختیار کرنے سے ایمان اور اعمال صالحہ حاصل ہوں۔ان اعمال سے وہی اعمال مراد ہیں جو اپنی تمام شرائط کے ساتھ کئے جائیں اور ایمان خالص ہو۔اس کے بعد فرمایا پھر تقویٰ کرے۔اس کے ساتھ صرف آمَنُوا رکھا ہے جس میں بظا ہر اعتراض پڑتا ہے کہ عجیب بات ہے کہ پہلے تقویٰ کا نتیجہ ایمان اور اعمال صالحہ بتائے تھے اور دوسری دفعہ تقویٰ کا حکم دیتے ہوئے صرف ایمان ہی نتیجہ بتا تا ہے۔اس کا جواب یاد رکھنا چاہئے۔کہ ایک ایمان ایسا ہوتا ہے جس کا اعمال صالحہ لازمی نتیجہ نہیں ہوتے۔اور ایک ایمان ایسا ہوتا ہے جس کا لازمی نتیجہ اعمال صالحہ ہوتے ہیں۔چونکہ پہلی بار اس ایمان کا ذکر کیا جس کا لازمی نتیجہ اعمال صالحہ نہیں ہوتے۔اور ایسا پختہ نہیں ہو تا کہ اس کے ساتھ