انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 10

دار العلوم جلد ۴ اطاعت اور احسان شناسی نے بھی فرمایا ہے۔نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ابخاری کتاب الجہاد باب قول النبي نصرت بالرعب مسير شہر مجھے رعب کے ساتھ نصرت دی گئی ہے۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے تلوار یا اور کسی چیز سے نصرت دی گئی ہے۔نپولین کے متعلق یہ واقعہ لکھا ہے کہ جب وہ قید سے بھاگ کر فرانس آیا تو بادشاہ نے جن لوگوں کو اس کے مقابلہ پر بھیجا ان سے بڑی بڑی سخت قسمیں لیں اور انہوں نے اقرار کیا کہ ہم مقابلہ سے کبھی نہیں نہیں گے اور نپولین کو مار بھگا دیں گے۔اس وقت نپولین کے ساتھ صرف چند آدمی تھی اور ان کی بہت بڑی سپاہ تھی۔اس لئے وہ ڈرے کہ نہ معلوم کیا انجام ہو۔نپولین نے انہیں تسلی دی اور کہا دیکھو تو سہی کیا ہوتا ہے۔جب فوج سامنے آئی تو نپولین اکیلا گھوڑا دوڑا کر اس کے آگے چلا گیا اور سینہ سامنے کر کے کہنے لگا۔لو! اپنے بادشاہ کے سینہ میں گولی مارو۔اس سے سب نے آسمان کی طرف بندوقیں چلا دیں اور کہا کہ ہمارا بادشاہ سلامت رہے۔تو رعب ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے کوئی بڑی سے بڑی طاقت نہیں ٹھر سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رستم کے متعلق ایک قصہ سناتے تھے کہ اس کے گھر ایک دفعہ چور آیا اور رستم سے اس کی لڑائی شروع ہو گئی جسے گرا کر وہ چھاتی پر چڑھ بیٹھا اور مارنے لگا اس پر رستم نے سمجھا کہ اسے معلوم نہیں کہ میں کون ہوں۔اس لئے اس نے کہا۔رستم آگیا۔رستم آگیا۔یہ سن کر چور بھاگ گیا۔اصل رستم کو تو اس نے گرا لیا۔مگر اس کے نام سے بھاگ گیا۔یہ رعب ہی تھا۔تو رعب ایک ایسی چیز ہے کہ اسی کی بناء پر حکومتیں قائم رہتی ہیں۔اور جس حکومت کے رعب میں فرق آجائے۔وہ خواہ کس قدر طاقت رکھتی ہو کچھ نہیں کر سکتی نہ امن قائم رکھ سکتی ہے اور نہ فساد و فتنہ روک سکتی ہے۔وہ لوگ جو ملک میں فتنہ و فساد ڈالنا چاہتے ہیں۔وہ حکومت کے رعب کو ہی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر انہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ اس کا ایسا خطرناک نتیجہ ہو گا کہ تمام ہندوستان یا د ہی رکھے گا۔ایسے لوگ حکومت کے دشمن نہیں بلکہ ہندوستان کے دشمن ہیں۔گورنمنٹ کے خلاف تقریریں کرنا اس کے خلاف لوگوں میں نفرت اور بد دلی پھیلانا اس کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اپنے ملک کو نقصان پہنچانا ہے۔یہ ان لوگوں کی نادانی اور بے وقوفی ہے جسے اسلام پسند نہیں کرتا۔اسلام کوئی جائز مطالبہ کرنے سے نہیں روکتا بلکہ رسول سے بھی مطالبہ کرنے کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول کان ہے اسے اپنی بات سناؤ۔وہ سنتا ہے مگر اس طریق سے کسی مطالبہ کی ہرگز اجازت نہیں دیتا جس سے حکومت کے رعب میں فرق آئے اور رعیت میں شوخی و شرارت پیدا ہو۔