انوارالعلوم (جلد 4) — Page 322
انوار العلوم جلد ۴ ٣٢٢ اسلام میں اختلافات کا آغاز یا آپ کے ہمسایہ گھروں میں جمع ہونا شروع ہوا۔ اور اس نے اس امر کا پختہ ارادہ کر لیا کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر حضرت عثمان کی جان پر آنچ نہ آنے دیں گے۔ اس گروہ میں حضرت علی، حضرت طلحہ " اور حضرت زبیر کی اولاد کے سوائے خود صحابہ میں سے بھی ایک جماعت شامل تھی۔ یہ لوگ رات اور دن حضرت عثمان کے مکان کی حفاظت کرتے تھے اور آپ تک کسی دشمن کو پہنچنے نہ دیتے تھے۔ اور گو یہ قلیل تعداد اس قدر کثیر لشکر کا مقابلہ تو نہ کر سکتی تھی مگر چونکہ باغی چاہتے تھے کوئی بہانہ رکھ کر حضرت عثمان کو قتل کریں وہ بھی اس قدر وقت زور نہ دیتے تھے۔ اس وقت کے حالات سے حضرت عثمان کی اسلامی خیر خواہی پر جو روشنی پڑتی ہے اس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تین ہزار کے قریب لشکر آپ کے دروازہ کے سامنے ۔ پڑا ہے اور اور کوئی تدبیر اس سے بچنے کی نہیں۔ مگر جو لوگ آپ کو بچانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں ان کو بھی آپ روکتے ہیں کہ جاؤ اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو ان لوگوں کو صرف مجھ سے عداوت ہے تم سے کوئی تعریض نہیں۔ آپ کی آنکھ اس وقت کو دیکھ رہی تھی جب کہ اسلام ان مفسدوں کے ہاتھوں سے ایک بہت بڑے خطرہ میں ہو گا۔ اور صرف ظاہری اتحاد ہی نہیں بلکہ روحانی انتظام بھی پراگندہ ہونے کے قریب ہو جاوے گا۔ اور آر آپ جانتے ۔ نتے تھے کہ اس وقہ اسلام کی حفاظت اور اس کے قیام کے لئے ایک ایک صحابی کی ضرورت ہو گی پس آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی جان بچانے کی بے فائدہ کوشش میں صحابہ کی جانیں جاویں اور سب کو یں نصیحت کرتے تھے کہ ان لوگوں سے تعرض نہ کرو اور چاہتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے آئندہ فتنوں کو دور کرنے کے لئے وہ جماعت محفوظ رہے جس نے رسول اللہ اللہ کی صحبت پائی ہے۔ مگر باوجود آپ کے سمجھانے کے جن صحابہ کو آپ کے گھر تک پہنچنے کا موقع مل جاتا رہ اپنے فرض کی ادائیگی میں کو تاہی نہ کرتے اور آئندہ کے خطرات پر موجودہ خطرہ کو مقدم رکھتے اور اگر ان کی جائیں اس عرصہ میں محفوظ تھیں تو صرف اس لئے کہ ان لوگوں کو جلدی کی کوئی ضرورت نہ معلوم ہوتی تھی اور بہانہ کی تلاش تھی۔ لیکن وہ وقت بھی آخر آگیا جب کہ زیادہ انتظار کرنا نا ممکن ہو گیا۔ کیونکہ حضرت عثمان کا وہ دل کے ہلا دینے والا پیغام جو آپ نے حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں کو بھیجا تھا حجاج کے مجمع میں سنا دیا گیا تھا اور وادی مکہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کی آواز سے گونج رہی تھی اور حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ حج کے بعد جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہ رہیں گے اور مصری مفسدوں اور