انوارالعلوم (جلد 4) — Page 321
لوم جلد اسلام میں اختلافات کا آغاز جاتے۔حضرت عثمان کے گھر میں پتھر پھینکتے۔اور اس طرح اہل خانہ کو اشتعال دلاتے تاکہ جوش میں آکر وہ بھی پتھر پھینکیں تو لوگوں کو کہہ سکیں کہ انہوں نے ہم پر پہلے حملہ کیا ہے اس لئے ہم جواب دینے پر مجبور ہیں۔مگر حضرت عثمان نے اپنے تمام اہل خانہ کو جواب دینے سے روک دیا۔ایک دن موقع پاکر دیوار کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے لوگو! میں تو تمہارے نزدیک تمہارا گناہ گار ہوں مگر دوسرے لوگوں نے کیا قصور کیا ہے۔تم پھر پھینکتے ہو تو دوسروں کو بھی چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم نے پتھر نہیں حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تم نہیں پھینکتے تو اور کون پھینکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ پھینکتا ہو گا (نعوذ باللہ من ذالک) حضرت عثمان نے فرمایا کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔اگر خدا تعالٰی ہم پر پتھر پھینکتا تو اس کا کوئی پتھر خطا نہ جاتا۔لیکن تمہارے پھینکے ہوئے پتھر تو ادھر ادھر بھی جاپڑتے ہیں۔یہ فرما کر آپ ان کے سامنے سے ہٹ گئے۔ھینکے گو صحابہ کو اب حضرت عثمان کے پاس جمع فرو کرنے میں صحابہ کی مساعی جمیلہ ہونے کا موقع نہ دیا جاتا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے فرض سے غافل نہ تھے۔مصلحت وقت کے ماتحت انہوں نے دو حصوں میں اپنا کام تقسیم کیا ہوا تھا۔جو سن رسیدہ اور جن کا اخلاقی اثر عوام پر زیادہ تھا وہ تو اپنے اوقات کو لوگوں کے سمجھانے صرف کرتے اور جو لوگ ایسا کوئی اثر نہ رکھتے تھے یا نوجوان تھے وہ حضرت عثمان کی حفاظت کی کوشش میں لگے رہتے۔اول الذکر جماعت میں سے حضرت علی اور حضرت سعد بن وقاص فاتح فارس فتنہ کے کم کرنے میں سب سے زیادہ کوشاں تھے۔خصوصاً حضرت علی تو اس فتنہ کے ایام میں اپنے تمام کام چھوڑ کر اس کام میں لگ گئے تھے چنانچہ ان واقعات کی رؤیت کے گواہوں میں سے ایک شخص عبدالرحمن نامی بیان کرتا ہے کہ ان ایام فتنہ میں میں نے دیکھا ہے کہ حضرت علی نے اپنے تمام کام چھوڑ دیئے تھے اور حضرت عثمان کے دشمنوں کا غضب ٹھنڈا کرنے اور آپ کی تکالیف دور کرنے کی فکر میں ہی رات دن لگے رہتے تھے۔ایک دفعہ آپ تک پانی پہنچنے میں کچھ دیر ہوئی تو حضرت طلحہ" پر جن کے سپرد یہ کام تھا آپ سخت ناراض ہوئے اور اس وقت تک آرام نہ کیا جب تک پانی حضرت عثمان کے گھر میں پہنچ نہ گیا۔دو سرا گروہ ایک ایک دو دو کر کے جس جس وقت موقع ملتا تھا تلاش کر کے حضرت عثمان