انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 313

دم جالندم اسلام میں اختلافات کا آغاز اس واقعہ ہائکہ کے بعد صحابہ اور اہل صحابہ کی مفسدوں کے خلاف جنگ پر آمادگی مدینہ نے سمجھ لیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں اس سے بھی زیادہ بغض بھرا ہوا ہے جس قدر کہ یہ ظاہر کرتے ہیں۔گو وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے مگر بعض صحابہ جو اس حالت سے موت کو بہتر سمجھتے تھے اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو جاوے ہم ان سے جنگ کریں گے۔اس دو تین ہزار کے لشکر کے مقابلہ میں چار پانچ آدمیوں کا لڑنا دنیا داری کی نظروں میں شاید جنون معلوم ہو۔لیکن جن لوگوں نے اسلام کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہوا تھا انہیں اس کی حمایت میں لڑنا کچھ بھی دوبھر نہیں معلوم ہو تا تھا۔ان لڑائی پر آمادہ ہو جانے والوں میں مفصلہ ذیل، صحابہ بھی شامل تھے۔سعد بن مالک حضرت ابو ہریرہ ، زید بن صامت اور حضرت امام حسن۔جب حضرت عثمان کو یہ خبر پہنچی تو نے فورا ان کو کہلا بھیجا کہ ہرگز ان لوگوں سے نہ لڑیں اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔حضرت عثمان کی محبت جو آپ کو صحابہ رسول کریم اور آپ کے اہل بیت سے تھی اس نے بے شک اس لڑائی کو جو چند جان فروش صحابہ اور اس دو تین ہزار کے باغی لشکر کے درمیان ہونے والی تھی روک دیا۔مگر اس واقعہ سے یہ بات ہمیں خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جاتی ہے کہ صحابہ میں ان لوگوں کی شرارتوں پر کس قدر جوش پیدا ہو رہا تھا۔کیونکہ چند آدمیوں کا ایک لشکر جرار کے مقابلہ پر آمادہ ہو جانا ایسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ لوگ اس لشکر کی اطاعت کو موت سے بد تر خیال کریں۔اس جماعت میں ابو ہریرہ اور امام حسن کی 3 شرکت خاص طور پر قابل غور ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ فوجی آدمی نہ تھے اور اس سے پیشتر کوئی خاص فوجی خدمت ان سے نہیں ہوئی۔اسی طرح حضرت امام حسن کو ایک جری باپ کے بیٹے اور خود جری اور بہادر تھے مگر آپ صلح اور امن کو بہت پسند فرماتے تھے اور رسول کریم کی ایک پیشگوئی کے مطابق صلح کے شہزادے تھے۔امستدرک الحاکم الجزء الثالث كتاب معرفة الصحابه باب اخبار النبي بان الحسن يصلح به بين فئتين من المسلمين ، ان دو شخصوں کا اس موقع پر تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو جانا دلالت کرتا ہے کہ صحابہ اور دیگر اہل مدینہ ان مفسدوں کی شرارت پر سخت ناراض تھے۔