انوارالعلوم (جلد 4) — Page 314
وم جلد ۴ سهام ۳۱ اسلام میں اختلافات کا آغاز صرف تین شخص مدینہ کے باشندے ان مدینہ میں مفسدوں کے تین بڑے ساتھی لوگوں کے ساتھی تھے ایک تو محمد بن ابی بکر جو حضرت ابو بکر کے لڑکے تھے۔اور مورخین کا خیال ہے کہ بوجہ اس کے کہ لوگ ان کے باپ کے سبب ان کا ادب کرتے تھے ان کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ میں بھی کوئی حیثیت رکھتا ہوں۔ورنہ نہ ان کو دنیا میں کوئی سبقت حاصل تھی نہ رسول کریم ا کی صحبت حاصل تھی نہ بعد ! میں ہی خاص طور پر دینی تعلیم حاصل کی حجتہ الوادع کے ایام میں پیدا ہوئے اور رسول کریم کی وفات کے وقت ابھی دودھ پیتے بچے تھے۔چوتھے سال ہی میں تھے کہ حضرت ابو بکر فوت ہو گئے اور اس بے نظیر انسان کی تربیت سے بھی فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملا۔تهذیب التهذیب جلد 9 صفحہ ۷۰ مطبوعہ لاہور) دوسرا شخص محمد بن ابی حذیفہ تھا یہ بھی صحابہ میں سے نہ تھا اس کے والد یمامہ کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور حضرت عثمان نے اس کی تربیت اپنے ذمہ لے لی تھی اور بچپن سے آپ نے اسے پالا تھا۔جب حضرت عثمان " خلیفہ ہوئے تو اس نے آپ سے کوئی عہدہ طلب کیا۔آپ نے انکار کیا اس پر اس نے اجازت چاہی کہ میں کہیں باہر جا کر کوئی کام کروں۔آپ نے اجازت دے دی اور یہ مصر چلا گیا۔وہاں جا کر عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں سے مل کر حضرت عثمان کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا۔جب اہل مصر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تو یہ ان کے ساتھ ہی آیا۔مگر کچھ دور تک آکر واپس چلا گیا اور اس فتنہ کے وقت مدینہ میں نہیں تھا۔(طبری جلد ۲ صفحه ۳۰۲۹ مطبوعہ بیروت) تیسرے شخص عمار بن یا سر تھے یہ صحابہ میں سے تھے اور ان کے دھوکا کھانے کی وجہ یہ کہ یہ سیاست سے باخبر نہ تھے۔جب حضرت عثمان نے ان کو مصر بھیجا کہ وہاں کے والی کے انتظام کے متعلق رپورٹ کریں تو عبد اللہ بن سبا نے ان کا استقبال کر کے ان کے خیالات کو مصر کے گورنر کے خلاف کر دیا۔اور چونکہ وہ گورنر ایسے لوگوں میں سے تھا۔جنہوں نے ایام کفر میں رسول کریم ﷺ کی سخت مخالفت کی تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لایا تھا۔اس لئے آپ بہت جلد ان لوگوں کے قبضہ میں آگئے۔والی کے خلاف بدظنی پیدا کرنے کے بعد آہستہ آہستہ حضرت عثمان پر بھی انہوں نے ان کو بدظن کر دیا۔مگر انہوں نے عملاً فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا۔کیونکہ باوجود اس کے کہ مدینہ پر حملہ کے وقت یہ مدینہ میں موجود تھے سوائے اس کے کہ لرحم