انوارالعلوم (جلد 4) — Page 310
العلوم جلد ۳ ۳۱۰ اسلام میں اختلافات کا آغاز کرتے تھے۔حضرت علی کے لئے یہ ایک نہایت حیرت انگیز بات تھی۔آپ نے اس سے صاف انکار کیا اور لاعلمی ظاہر کی اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم ہے میں نے کبھی کوئی خط آپ لوگوں کی طرف نہیں لکھا۔(طبری جلد نمبر ۶ صفحه ۲۹۶۵ مطبوعہ بیروت) اس پر ان لوگوں کو بھی سخت حیرت ہوئی کیونکہ در حقیقت خود ان کو بھی دھوکا دیا گیا تھا۔اور انہوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا اور دریافت کیا کہ کیا اس شخص کے لئے تم غضب ظاہر کرتے ہو اور لڑتے ہو یعنی یہ شخص تو ایسا بزدل ہے کہ سب کچھ کر کرا کر موقع پر اپنے آپ کو بالکل بری ظاہر کرتا ہے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ ) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں بعض ایسے آدمی موجود تھے جو جعلی خطوط بنانے میں مہارت رکھتے تھے اور یہ بھی کہ ایسے آدمی مصریوں میں موجود تھے۔کیونکہ حضرت علی کے نام پر خطوط صرف مصریوں کی طرف لکھے جاسکتے تھے جو حضرت علی کی محبت کے دعویدار تھے۔پس اس خط کا جو حضرت عثمان کی طرف منسوب کیا جاتا تھا مصری قافلہ میں پکڑا جانا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اس کا لکھنے والا مدینہ کا کوئی شخص نہ تھا بلکہ مصری قافلہ کا ہی ر ایک فرد تھا۔خط کا واقعہ چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف الزام لگانے والوں کے نزدیک سب سے اہم واقعہ ہے اس لئے میں نے اس پر تفصیلاً اپنی تحقیق بیان کر دی ہے اور گو اس واقعہ پر اور بسط سے بھی بیان کیا جا سکتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ بیان کیا جا چکا ہے۔اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کہ یہ خط ایک جعلی اور بناوٹی خط تھا۔اور یہ کہ اس خط کے بنانے والے عبداللہ بن سبا اور اس کے ساتھی تھے نہ کہ مردان یا کوئی اور شخص۔(حضرت عثمان کی ذات تو اس سے بہت ارفع ہے) کافی ہے۔اب میں پھر سلسلہ واقعات کی طرف لوٹتا ہوں۔اس مفسدوں کی اہل مدینہ پر زیادتیاں جعلی خط کے زور پر اور اچانک مدینہ پر قبضہ کر لینے کے گھمنڈ پر ان مفسدوں نے خوب زیادتیاں شروع کیں۔ایک طرف تو حضرت عثمان پر زور دیا جاتا کہ وہ خلافت سے دست بردار ہو جائیں۔دوسری طرف اہل مدینہ کو تنگ کیا جاتا کہ و حضرت عثمان کی مدد کے لئے کوشش نہ کریں۔اہل مدینہ بالکل بے بس تھے دو تین ہزار مسلح فوجی جو شہر کے راستوں اور چوکوں اور دروازوں کی ناکہ بندی کئے ہوئے تھے۔اس کا مقابلہ وہ