انوارالعلوم (جلد 4) — Page 304
انوار العلوم جلد ۴ ۳۰ اسلام میں اختلافات کا آغاز یہ واقعہ سنا تو یہی جرح کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ صرف ایک فریب ہے جو تم نے کیا ہے۔ گو صحابہ نے ان حضرت عثمان کا باغیوں کے لئے الزام سے بریت ثابت کرنا کی اس بات کو عقلا رد کر دیا مگر ان لوگوں کی دلیری اب حد سے بڑھ گئی تھی۔ باوجود اس ذلت کے جو ان کو پہنچی تھی۔ انہوں نے حضرت عثمان کے سامنے اس معاملہ کو پیش کیا اور آپ سے اس کا جواب مانگا۔ اس وقت بہت سے اکابر صحابہ بھی آپ کی مجلس میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے ان کو جواب دیا کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کسی امر کے فیصلہ کے دو ہی طریق ہیں۔ یا تو یہ کہ مدعی اپنے دعوی کی تائید میں دو گواہ پیش کرنے یا یہ کہ مدفی علیہ کو قسم دی جائے۔ پس تم پر فرض ہے کہ تم دو گواہ اپنے دعوی کی تائید میں پیش کرو ورنہ میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں کہ نہ میں نے یہ خط لکھا ہے نہ میرے مشورہ سے یہ خط لکھا گیا اور نہ ہی لکھوایا ہے نہ مجھے علم ہے کہ یہ خط کس نے لکھا ہے ۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ کبھی خط جھوٹے بھی بنا لئے جاتے ہیں اور انگوٹھیوں جیسی اور انگوٹھیاں بنائی جا سکتی ہیں۔ جب صحابہ آپ کا یہ جواب سنا تو انہوں نے حضرت عثمان کی تصدیق کی اور آپ کو اس الزام سے بری قرار دیا ۔ مگر ان لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور ہوتا بھی کیونکر ۔ انہوں نے تو خود وہ خط بنایا تھا۔ سوتے ہوئے آدمی کو تو آدمی جگا سکتا ہے جو جاگتا ہو اور ظاہر کرے کہ سو رہا ہے اسے کون جگائے۔ ان لوگوں کے سردار تو خوب سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا اپنا فریب ہے۔ وہ ان جوابات کی صحت یا معقولیت پر کب غور کر سکتے تھے اور ان کے اتباع ان کے غلام بن چکے تھے جو کچھ وہ کہتے وہ سنتے تھے اور جو کچھ بتاتے تھے اسے تسلیم کرتے تھے۔ نے ان لوگوں پر نہ تو اثر ہو سکتا تھا نہ ہوا مگر آنکھوں والوں باغیوں کے منصوبہ کی اصلیت کے لئے حضرت عثمان کا جواب شرم و حیا کی صفات حسنہ سے ایسا منصف ہے کہ اس سے ان مفسدوں کی بے حیائی اور وقاحت اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے جب کہ وہ مفسد ایک جھوٹا خط بنا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر فریب اور دھو کے کا الزام لگاتے ہیں اور جب کہ حضرت علی اور محمد بن مسلمہ واقعات سے نتیجہ نکال کر ان لوگوں پر صاف صاف دھوکے کا الزام لگاتے ہیں۔ خود حضرت عثمان" جن پر الزام لگایا گیا ہے اور جن کے خلاف یہ منصوبہ کھڑا کیا گیا ہے اپنے آپ سے تو الزام کو دفع کرتے ہیں مگر یہ نہیں فرماتے