انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 297

العلوم جلد ۴ ۲۹۷ اسلام میں اختلافات کا آغاز جواب یہ ہے کہ بے شک ان کی یہ دلیری ظاہر کرتی ہے کہ ان لوگوں کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا۔مگر اس کی یہ وجہ نہیں کہ صحابہ یا اہل مدینہ ان کے ساتھ تھے یا ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔بلکہ جیسا کہ خود ان کے بیان سے ثابت ہے کہ صرف تین شخص مدینہ کے ان کے ساتھ تھے اور جیسا کہ واقعات سے ثابت ہے۔صحابہ اور دیگر اہل مدینہ ان لوگوں سے سخت بیزار تھے۔پس ان کی دلیری کا یہ باعث تو نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگ ان سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار کرتے تھے ان کی دلیری کا اصل باعث اول تو حضرت عثمان کا رحم تھا۔یہ لوگ سمجھتے تھے کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو فھو المراد۔اور اگر ناکام رہے تو حضرت عثمان سے درخواست رحم کر کے سزا سے بچ جائیں گے۔دوسرے گو صحابہ اور اہل مدینہ کا طریق عمل یہ پچھلی دفعہ دیکھ ا تھے۔اور ان کو معلوم تھا کہ حضرت عثمان کو ہماری آمد کا علم ہے مگر یہ لوگ خیال کرتے تھے کہ حضرت عثمان اپنے حلم کے باعث ان کے خلاف لڑنے کے لئے کوئی لشکر نہیں جمع کریں گے اور صحابہ ہمارا مقابلہ نہیں کریں گے۔کیونکہ یہ لوگ اپنے نفس پر قیاس کرکے سمجھتے تھے کہ صحابہ ظاہر میں حضرت عثمان سے اخلاص کا اظہار کرتے ہیں ورنہ اصل میں ان کی ہلاکت کو پسند کرتے ہیں۔اور اس خیال کی یہ وجہ تھی کہ یہ لوگ یہی ظاہر کیا کرتے تھے کہ صحابہ کے حقوق کی حفاظت کے لئے ہی ہم سب کچھ کر رہے ہیں۔پس ان کو خیال تھا کہ صحابہ ہمارے اس فریب سے متاثر ہیں اور دل میں ہمیں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔جونہی اس لشکر کے مدینہ کے قریب پہنچنے کی اطلاع ملی صحابہ مفسدوں کا مدینہ میں پہنچنا اور اہل مدینہ جو ارد گرد میں جائدادوں پر انتظام کے لئے گئے ہوئے تھے مدینہ میں جمع ہو گئے اور لشکر کے دو حصے کئے گئے ایک حصہ تو مدینہ کے باہر ان لوگوں کے مقابلہ کرنے کے لئے گیا اور دوسرا حصہ حضرت عثمان کی حفاظت کے لئے شہر میں رہا۔جب تینوں قافلے مدینے کے پاس پہنچے تو اہل بصرہ نے ذو خشب مقام پر ڈیرہ لگایا ، اہل کوفہ نے اعوص پر اور اہل مصر نے ذوالمروہ پر۔اور مشورہ کیا گیا کہ اب ان کو کیا کرنا چاہئے۔گو اس لشکر کی تعداد کا اندازہ اٹھارہ سو آدمی سے لے کر تین ہزار تک کیا جاتا ہے۔(دوسرے حجاج جو ان کو قافلہ حج خیال کر کے ان کے ساتھ ہو گئے تھے وہ علیحدہ تھے مگر پھر بھی یہ لوگ سمجھتے تھے کہ دلاوران اسلام کا مقابلہ اگر وہ مقابلہ پر آمادہ ہوئے ان کے لئے آسان نہ ہو گا۔اس لئے مدینہ میں داخل ہوتے ہی پہلے اہل مدینہ کی رائے معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے۔چنانچہ دو شخص زیاد بن النفر