انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 295

لعلوم جلد ۴۳ ۲۹۵ اسلام میں اختلافات کا آغاز اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسد لوگ کس حضرت عثمان کا مفسدوں پر رحم کرنا کس قسم کے فریب اور دھوکے سے کام کرتے تھے اور اس زمانہ میں جب کہ پریس اور سامان سفر کا وہ انتظام نہ تھا جو آج کل ہے کیسا آسان تھا کہ یہ لوگ ناواقف لوگوں کو گمراہ کر دیں۔مگر اصل میں ان لوگوں کے پاس کوئی معقول وجہ فساد کی نہ تھی۔نہ حق ان کے ساتھ تھا نہ یہ حق کے ساتھ تھے۔ان کی تمام کارروائیوں کا دارو مدار جھوٹ اور باطل پر تھا اور صرف حضرت عثمان کا رحم ان کو بچائے ہوئے تھا۔ورنہ مسلمان ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔وہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ وہ امن و امان جو انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے حاصل کیا تھا چند شریروں کی شرارتوں سے اس طرح جاتا رہے اور وہ دیکھتے تھے کہ ایسے لوگوں کو اگر جلد سزا نہ دی گئی تو اسلامی حکومت تہ و بالا ہو جائے گی۔مگر حضرت عثمان رحم مجسم تھے وہ چاہتے تھے کہ جس طرح ہو ان لوگوں کو ہدایت مل جائے اور یہ کفر پر نہ مریں پس آپ ڈھیل دیتے تھے اور ان کے صریح بغاوت کے اعمال کو محض ارادہ بغاوت سے تعبیر کر کے سزا کو پیچھے ڈالتے چلے جاتے تھے۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ان لوگوں سے بالکل متنفر تھے کیونکہ اول تو خود وہ بیان کرتے ہیں کہ صرف تین اہل مدینہ ہمارے ساتھ ہیں اس سے زیادہ نہیں اگر اور صحابہ بھی ان کے ساتھ ہوتے تو وہ ان کا نام لیتے۔دوسرے صحابہ نے اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ ان لوگوں کے افعال سے متنفر تھے۔اور ان کے اعمال کو ایسا خلاف شریعت سمجھتے تھے کہ سزا قتل سے کم ان کے نزدیک جائز ہی نہ تھی۔اگر صحابہ ان کے ساتھ ہوتے یا اہل مدینہ ان کے ہم خیال ہوتے تو کسی مزید حیلہ و بہانہ کی ان لوگوں کو کچھ ضرورت ہی نہیں تھی۔اسی وقت حضرت عثمان کو قتل کر دیتے اور ان کی جگہ کسی اور شخص کو خلافت کے لئے منتخب کر لیتے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں کامیاب ہوتے خود ان کی جائیں صحابہ کی شمشیر ہائے برہنہ سے خطرہ میں پڑ گئی تھیں۔اور صرف اسی رحیم و کریم وجود کی عنایت و مہربانی سے یہ لوگ بیچ کر واپس جاسکے جس کے قتل کا ارادہ ظاہر کرتے تھے اور جس کے خلاف اس قدر فساد برپا کر رہے تھے۔ان مفسدوں کی کینہ وری اور تقویٰ سے بُعد پر تعجب آتا ہے کہ اس واقعہ سے انہوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھایا ان کے ایک ایک اعتراض کا خوب جواب دیا گیا۔اور سب الزام غلط اور بے بنیاد ثابت کر دیئے گئے۔حضرت عثمان کا رحم و کرم انہوں نے