انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 294

اسلام میں اختلافات کا آغاز ۲۹۴ ۴ باب التقصير فى الـ ان کا خیال ہے کہ وہ ان باتوں کے متعلق مجھ سے بحث کریں تاکہ واپس جا کر کہہ سکیں کہ ہم نے ان امور کے متعلق عثمان سے بحث کی اور وہ ہار گئے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں پوری نماز ادا کی حالانکہ رسول کریم ال سفر میں نماز قصر کیا کرتے تھے۔اتر مذی ابواب السفر في السفر، مگر میں نے صرف منی میں پوری پڑھی ہے۔اور وہ بھی دو وجہ سے۔ایک تو یہ کہ میری وہاں جائداد تھی اور میں نے وہاں شادی کی ہوئی تھی۔دوسرے یہ کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ چاروں طرف سے لوگ ان دنوں حج کے لئے آئے ہیں۔ان میں سے ناواقف لوگ کہنے لگیں گے کہ خلیفہ تو دو ہی رکعت پڑھتا ہے دو ہی رکعت ہو گی۔کیا یہ بات درست نہیں؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔آپ نے فرمایا دوسرا الزام یہ لگاتے ہیں کہ میں نے رکھ مقرر کرنے کی بدعت جاری کی ہے۔حالانکہ یہ الزام غلط ہے۔رکھ مجھ سے پہلے مقرر کی گئی تھی حضرت عمر نے اس کی ابتداء کی تھی۔اور میں نے صرف صدقہ کے اونٹوں کی زیادتی پر اس کو وسیع کیا ہے اور پھر رکھ میں جو زمین لگائی گئی ہے وہ کسی کا مال نہیں ہے اور میرا اس میں کوئی فائدہ نہیں میرے تو صرف دو اونٹ ہیں حالانکہ جب میں خلیفہ ہوا تھا اس وقت میں سب عرب سے زیادہ مال دار تھا اب صرف دو اونٹ ہیں جو حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔کیا یہ درست نہیں ؟ صحابہ کرام نے فرمایا ہاں درست ہے۔پھر فرمایا یہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو حاکم بناتا ہے۔حالانکہ میں ایسے ہی لوگوں کو حاکم بنا تا ہوں جو نیک صفات نیک اطوار ہوتے ہیں اور مجھ سے پہلے بزرگوں نے میرے مقرر کردہ والیوں سے زیادہ نو عمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا تھا اور رسول کریم و پر اسامہ بن زید کے سردار لشکر مقرر کرنے پر اس سے زیادہ اعتراض کئے گئے تھے جو اب مجھ پر کئے جاتے ہیں۔کیا یہ درست نہیں؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔یہ لوگوں کے سامنے عیب تو بیان کرتے ہیں مگر اصل واقعات نہیں بیان کرتے۔غرض اسی کی طرح حضرت عثمان نے تمام اعتراضات ایک ایک کر کے بیان کئے اور ان کے جواب بیان کئے۔صحابہ برابر زور دیتے کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔مگر حضرت عثمان نے ان کی یہ بات نہ مانی اور ان کو چھوڑ دیا۔طبری کہتا ہے کہ ابى الْمُسْلِمُونَ إِلَّا قَتْلَهُمْ وَ أَبِي إِلَّا تَرْكَهُمْ (طبرى جلدها صفحه ۲۹۵۴ مطبوعہ بیروت) یعنی باقی سب مسلمان تو ان لوگوں کے قتل کے سوا کسی بات پر راضی نہ ہوتے تھے۔مگر حضرت عثمان سزا دینے پر کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔