انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 293

۲۹۳ اسلام میں اختلافات کا آغاز ملکوں کو واپس جاویں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ ہم نے حضرت عثمان پر بہت الزام لگائے اور ان کی سچائی ثابت کر دی۔مگر انہوں نے ان باتوں کے چھوڑنے سے انکار کر دیا اور توبہ نہیں کی۔پھر ہم حج کے بہانہ سے نکلیں گے اور مدینہ پہنچ کر آپ کا احاطہ کر لیں گے۔اگر آپ نے خلافت سے علیحدگی اختیار کر لی تب تو خیر ورنہ آپ کو قتل کر دیں گے۔یہ دونوں مخبر پوری طرح ان کا حال لیکر واپس گئے اور حضرت عثمان کو سازش کا انکشاف سب حال سے اطلاع دی۔آپ ان لوگوں کا حال سن کر ہنس پڑے اور خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی! ان لوگوں کو گمراہی سے بچالے۔اگر تو نہ بچاوے گا تو یہ لوگ برباد ہو جاویں گے۔پھر ان تینوں شخصوں کی نسبت جو مدینہ والوں میں سے ان لوگوں کے ساتھ تھے فرمایا کہ عمار کو تو یہ غصہ ہے کہ اس نے عباس بن عقبہ بن ابی لہب پر حملہ کیا تھا اور اس کو زجر کی تھی۔اور محمد بن ابی بکر متکبر ہو گیا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اب اس پر کوئی قانون نہیں چلتا۔اور محمد بن ابی حذیفہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رہا ہے۔پھر آپ نے ان مفسدوں کو بھی بلوایا اور آنحضرت ا کے صحابہ کو بھی جمع کیا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے ان لوگوں کو حضرت عثمان ” کا مفسدوں کو بلوانا سب حال سنایا اور وہ دونوں مخبر بھی بطور گواہ کھڑے ہوئے۔اور گواہی دی۔اس پر سب صحابہ نے فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو قتل کر دیجئے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ ایک امام موجود ہو اپنی اطاعت یا کسی اور کی اطاعت کے لئے لوگوں کو بلا دے اس پر خدا کی لعنت ہو۔تم ایسے شخص کو قتل کر رو خواہ کوئی ہو۔(مسلم کتاب الامارة باب حكم من فرق المسلمين وهو مجتمع) اور حضرت عمر کا قول یاد دلایا کہ میں تمہارے لئے کسی ایسے شخص کا قتل جائز نہیں سمجھتا جس میں میں شریک نہ ہوں۔یعنی سوائے حکومت کے اشارہ کے کسی شخص کا قتل جائز نہیں۔حضرت عثمان نے صحابہ کا یہ فتویٰ سن کر فرمایا کہ نہیں ہم ان کو معاف کریں گے اور ان کے عذروں کو قبول کریں گے اور اپنی ساری کوشش سے ان کو سمجھا دیں گے اور کسی شخص کی مخالفت نہیں کریں گے۔جب تک وہ کسی حد شرعی کو نہ توڑے یا اظہار کفر نہ کرے۔پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے کچھ باتیں حضرت عثمان کا اتہامات سے بریت ثابت کرنا بیان کی ہیں جو تم کو بھی معلوم ہیں مگر