انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 210

انوار العلوم جلد ۳۱۰ حقیقت کے اس فعل کو بھی نعوذ باللہ بزدلانہ فعل قرار دیں گے۔عیاذ باللہ۔مولوی صاحب! تو بہ کریں کہ آپ ہمیشہ میری مخالفت میں خدا تعالٰی کے برگزیدوں کی ہتک کرتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود کا ایک حکم بھی اس کی تائید کرتا ہے۔چنانچہ مباحثه مابین مولوی عبداللہ چکڑالوی و مولوی محمد حسین پر ریویو لکھتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں " ہر ایک جو ہماری جماعت میں ہے اسے یہی چاہئے کہ وہ عبداللہ چکڑالوی کے عقیدوں سے جو حدیثوں کی نسبت وہ رکھتا ہے بدل متنفر اور بیزار ہو اور ایسے لوگوں کی صحبت سے حتی الوسع نفرت رکھیں۔" ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، صفحہ ۸۷ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۱۲-۲۱۳) اس جگہ آپ نے چکڑالویوں سے ملنے جلنے سے حتی الوسع بچنے کی اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے اور ملنا اور کتابیں پڑھنا ایک ہی جیسا ہے۔تو کیا آپ کہیں گے کہ حضرت مسیح موعود ڈرتے تھے کہ چکڑالویوں کے زبردست دلائل سے کہیں ہماری جماعت مرتد نہ ہو جائے اور آپ ان کو پہلوان نہیں بنانا چاہتے تھے۔ایک اور واقعہ بھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی شہادت اس امر کی تصدیق میں ہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کو ایک دفعہ الہام ہوا تھا کہ فلاں برہمو کی کتاب نہ پڑھنا۔اب کیا خدا تعالیٰ بھی ڈرتا تھایا مولوی صاحب کا ایمان کمزور تھا۔نعوذ باللہ یہ دونوں باتیں نہ تھیں بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتب ایسے پیرایہ میں لکھی ہوئی تھیں کہ ان سے سادہ لوحوں کو دھو کا لگنے کا اندیشہ تھا اس لئے اللہ تعالٰی نے مولوی صاحب کو بذریعہ الہام روک دیا تا آپ کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی جو اہمیت نہیں رکھتے نہ پڑھنے لگیں۔اس واقعہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ان لوگوں کو بھی جو مخالفین کو جواب دیتے ہیں مصلحتنا روک دیا جاتا ہے۔مولوی صاحب! یہ تینوں واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ آپ کا اعتراض مجھ پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر ہے ، محمد رسول الله الی پر ہے ، اور حضرت مسیح موعود پر ہے۔اور میں ایک اور بات بھی پوچھتا ہوں کہ مہربانی فرما کر آپ مجھے اپنا بھی وہ اعلان دکھا ئیں جس میں آپ نے حکماً اپنے ہم خیالوں کو لکھا ہو کہ وہ میری سب کتب اور رسالہ جات اور اشتہارات کو مطالعہ کر کے حق کا فیصلہ کریں۔اگر آپ نے بھی ایسا نہیں کیا تو مجھ پر کیا گلہ ہے۔اگر فرما دیں کہ میں نے کب روکا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے بھی تو کبھی نہیں روکا۔ہاں میرے نزدیک مخالف کی کتب پڑھنے کے متعلق مذکورہ بالا شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرے اکثر مرید ان کے پابند ہیں الا ماشاء اللہ۔چنانچہ آسانی سے اس کا علم اس طرح ہو سکتا ہے